BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 June, 2008, 11:54 GMT 16:54 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
عامر مسیح اب گھر نہیں آئے گا
 

 
 
عامر کی شادیاں کی تیاریاں ہو رہی تھیں
پیر دو جون کی اس صبح عامر مسیح گل کے والد نے اسے خواہش کے باوجود دفتر سے چھٹی کرنے کی ہدایت نہیں کر سکے اور یہی اب چوہدری پیارا کی زندگی کا پچھتاوا بن گیا ہے۔

’میں نے رات کو بے چینی کے عالم میں اسے خواب میں دیکھا تھا اور صبح اٹھ کر میں اسے دفتر جانے سے روکنا چاہتا تھا لیکن۔۔۔۔۔۔’ عامر کے والد کی یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی کیونکہ عامر اب کبھی دفتر نہیں جائے گا۔ پیر کے روز جب آخری مرتبہ وہ دفتر گیا تو ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر ہونے والے بم دھماکے کا نشانہ بن گیا۔

چھبیس سالہ عامر سات بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھا اور تین برس سے ایف سکس کی گلی نمبر اکیس میں واقع قومی تعمیر نو بیورو کے سابق سربراہ دانیال عزیز کی غیر سرکاری تنظیم ڈی ٹی سی ای میں خاکروب کے طور پر ملازم تھا۔

دو جون کی تباہی کا منظر پیش کرتی اس گلی سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ’سو کوارٹر‘ نامی کچی بستی کی ایک بیٹھک میں چوہدری پیارا مسیح بیٹے کی موت پر لوگوں سے تعزیت وصول کر رہے ہیں۔

 اپنی عمر کے لحاظ سے سنجیدہ اور کم گو عامر مسیح گل کے گھر میں شادی کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ اس کے والد بستی کی بیٹھک میں تعزیت کرنے والوں کو بتا رہے ہیں کہ اسکے لئے لڑکی کی تلاش جاری تھی اور ایک آدھ جگہ بات بھی چل رہی تھی۔
 

’رات کو خواب میں اسے دیکھنے کے بعد میرے دل میں عجیب سی بے چینی تھی۔ میں نے اس کی ماں سے ذکر کیا اور پھر اسے دفتر سے چھٹی لینے کے لئے کہنے ہی والا تھا کہ پتہ چلا وہ جا چکا ہے۔‘

گھر اور دفتر میں زیادہ فاصلہ نہیں تھا اس لئے عامر دس بجے کے قریب صبح کے ناشتے کے لئے دوبارہ گھر آتا تھا۔

’میں نے سوچا ناشتے کے لئے آئے گا تو روک لوں گا۔ لیکن جب وہ آیا تو میں گھر پر نہیں تھا۔ اس کے آنے کے وقت میں گھر پہنچا تو وہ ایک بار پھر جا چکا تھا۔‘

اور اس بار عامر ہمیشہ کے لئے چلا گیا تھا۔

شاہد محمود، ظفر اقبال، محمد ناصر، امین شوکت اور منتظر کی طرح عامر مسیح گل بھی ڈنمارک کا شہری نہیں ہے۔

عامر خاکروب تھا۔ باقی پانچ میں سے دو چوکیدار، دو پولیس کانسٹیبل اور ایک غالبًا راہگیر۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ بم دھماکے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرنے والوں کا نشانہ چوک گیا ہو۔ اگر ان بائیس بم دھماکوں میں مرنے والوں کے نام پتے کھنگالنے شروع کریں تو سینکڑوں کی اس فہرست میں ترکی کی ایک نرس کے علاوہ کوئی غیر ملکی شامل نہیں ہے۔

رشیدہ بی بی گزشتہ برس چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی مہم کے سلسلے میں ہونے والے جلسے میں شرکت کرنے گئی تھی لیکن سو کوارٹر میں بھی اس کی لاش ہی پہنچی تھی۔

اس دوران جن فوجی تنصیبات اور قافلوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں مرنے والے بھی بے نام اور ’لو رینک’ جوان ہی رہے ہیں۔ ماسوائے لیفٹنٹ جنرل مشتاق بیگ کے جو راولپنڈی کے سی ایم ایچ ہسپتال کے غیر فوجی مریضوں میں بھی’مسیحا‘ کے طور پر مشہور تھے۔

اپنی عمر کے لحاظ سے سنجیدہ اور کم گو عامر مسیح گل کے گھر میں شادی کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ اس کے والد بستی کی بیٹھک میں تعزیت کرنے والوں کو بتا رہے ہیں کہ اسکے لئے لڑکی کی تلاش جاری تھی اور ایک آدھ جگہ بات بھی چل رہی تھی۔

اور پھر ڈنمارک ایمبیسی کے باہر دھماکہ ہو گیا۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد