BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 July, 2008, 11:32 GMT 16:32 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید‘
 

 
 
بگرام
رپورٹ کےمطابق ڈاکٹر عافیہ بگرام ائر بیس میں قید ہیں۔
حقوق انسانی کی ایک تنظیم نے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی افغانستان کے ایک امریکی فوجی مرکز میں ممکنہ موجودگی کی تحقیقات کرنے کے لپے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے۔

ایشیائی ہیومن رائٹس کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانچ سال قبل اپنے بچوں سمیت کراچی سے لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جنہوں نے امریکہ میں تربیت حاصل کی تھی، بگرام میں واقعہ امریکی جیل میں قید ہیں اور وہاں واحد خاتون قیدی ہونے کی وجہ سے اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ امریکی تحقیقاتی اداروں کو مطلوب ہیں اور ان پر القاعدہ کا رکن ہونے اور امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔


گمشدگی کے فوراً بعد امریکی اور پاکستانی خفیہ اداروں نے انکی گرفتاری کی تصدیق کی تھی تاہم بعد میں ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں سرکاری سطح پر لا علمی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر حقوق انسانی کی تنظیم نے قید خانے میں ڈاکٹر عافیہ کے شب و روز کی ہولناک تصویر کشی کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ، اور لاپتہ افراد اور خواتین کے خلاف تشدد کے حوالے سے قائم دیگر بین الاقوامی اداروں کو بھیجی جانے والی یادداشت میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس بات کے کافی شواہد ملے ہیں کہ بگرام جیل کی قیدی نمبر چھ سو پچاس ڈاکٹر عافیہ ہی ہیں۔

جیل انتظامیہ بگرام جیل میں کسی خاتون قیدی کی موجودگی کی تردید کر چکی ہے۔

تاہم اس رپورٹ میں اپنے ذرائع کے حوالے سے الزام لگایا گیا ہے کہ بگرام ائر بیس میں ڈاکٹر عافیہ پر اس قدر تشدد کیا گیا ہے کہ وہ ذہنی توازن کھو چکی ہیں۔

رپورٹ میں برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس خاتون کو جیل کے عملے کی جانب سے مسلسل جنسی زیادتی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ اور قیدی نمبر چھ سو پچاس کے نام سے مشہور اس خاتون کو نہانے اور دیگر ضروریات کے لیے مردانہ غسل خانہ استعمال کرنا پڑتا ہے جس میں پردے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔

رپورٹ میں ایک برطانوی صحافی وون ریڈلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس نے اس خاتون کو ’جیل میں قید ایک بھوت‘ سے تشبیہ دی ہے جس کی کوئی شناخت نہیں ہے لیکن اسکی چیخیں ان لوگوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں جو انہیں ایک بار سننے کا تجربہ کر چکے ہوں۔

ایشیائی ہیومن رائٹس کمیشن نے اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی دیگر تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بگرام جیل کی قیدی نمبر چھ سو پچاس کی شناخت اور حالات کو منظر عام پر لانے کے لیے مداخلت کریں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد