BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 July, 2008, 01:16 GMT 06:16 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’پارلیمان محترم مگر بالادست آئین‘
 

 
 
’آزاد عدلیہ اور معاشی ترقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے‘
پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ
پارلیمنٹ کی بالادستی کو ایک تقدس ضرور حاصل ہے لیکن بالادست قانون صرف آئین ہے۔

جمعہ کی شب ملتان میں وکلاء اور سول سوسائٹی کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کی تشریح و تعمیر کا اختیار صرف قانون کے مطابق تشکیل پانے والی عدالتوں کو حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جمہوری نظام آزاد عدلیہ کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور قانون کے احترام کے بغیر جمہوریت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے موجودہ وقت کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر جج صاحبان اپنی گرفتاری کے خوف سے دوچار ہوں تو کبھی بھی کوئی جج آزاد اور دلیر نہیں ہو گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سارے جج ہمیشہ کے لیے بےتوقیر ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ڈر اور خوف ایک دفعہ عدلیہ کے خون میں داخل ہو گیا تو یہ آلائش ہمیشہ کے لیے عدلیہ کے خون میں سرایت کرتی رہے گی‘۔

معزول چیف جسٹس افتخار چودھری نے مزید کہا کہ آزاد عدلیہ اور معاشی ترقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور ان ممالک سے سرمایہ کار دور بھاگتے ہیں جن میں عدلیہ آزاد نہ ہو۔

اپنے خطاب میں جسٹس چودھری نے کہا کہ سرمایہ کاری معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن اگر بیرونی سرمایہ کار کو تحفظ فراہم نہ کیا جائے تو ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ سے محروم ممالک میں سرمایہ کار کو اپنے سرمائے کے یرغمال ہو جانے کا خوف ہوتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں اندرونی سرمایہ ملک سے باہر جا رہا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان معاشی ابتری کا شکار ہے۔

معزول چیف جسٹس نے کساد بازاری اور قیمتوں میں اضافے کو بھی سرمایہ کاری میں عدم تحفظ کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ سرمایہ کاری کے بغیر پیداوار اور ملازمت کے مواقع میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ایک ماہرِ اقتصادیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’ کسی قوم کو آزاد منش جج دیں تو دیکھیں کہ وہ قوم کس طرح سے پھلتی پھولتی ہے‘۔

  اگر جج صاحبان اپنی گرفتاری کے خوف سے دوچار ہوں تو کبھی بھی کوئی جج آزاد اور دلیر نہیں ہو گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سارے جج ہمیشہ کے لیے بےتوقیر ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ڈر اور خوف ایک دفعہ عدلیہ کے خون میں داخل ہو گیا تو یہ آلائش ہمیشہ کے لیے عدلیہ کے خون میں سرایت کرتی رہے گی۔
 
معزول چیف جسٹس افتخار چودھری

انہوں نے اوگرا کو تیل کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دینے کے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کہ ان کی عدالت، قیمتوں کے نظام کا باریک بینی سے جائزہ لے کر کوئی عدالتی فارمولا طے کرتی، تین نومبر کو ایمرجنسی لگا دی گئی اور معاملات دھرے کے دھرے رہ گئے۔

اس سے قبل معزول چیف جسٹس کی ملتان آمد پر وکلاء، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے اور آتش بازی کی گئی۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جون میں لانگ مارچ کے موقع پر معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کی ملتان آمد کی نسبت، اس دفعہ ان کے استقبال کے لیے لوگوں کی تعداد خاصی زیادہ تھی جس کی بنیادی وجہ پاکستان مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی غیر معمولی تعداد میں موجودگی تھی۔ نون لیگ کے اس استقبالی قافلے کی قیادت مخدوم جاوید ہاشمی اور صوبائی وزیر برائے مذہبی امور احسان الحق قریشی نے کی۔

ملتان میں جمعہ کی رات قیام کے بعد سنیچر کو وکلاء کا قافلہ مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے معزول چیف جسٹس افتخار چودھری، سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں بہاولپور روانہ ہو گا۔ جہاں معزول چیف جسٹس آل پاکستان لائرز کنونشن سے بھی خطاب کریں گے۔

 
 
اسی بارے میں
ججوں کی بحالی،مہلت14اگست
19 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد