BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’غیرت کے نام پر تین لڑکیاں قتل‘
 

 
 
خاتون  کا خاکہ(فائل فوٹو)
ماضی میں بھی پاکستان میں حقوقِ انسانی کی پامالی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں
ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں غیرت کے نام پر تین لڑکیوں کے قتل کی تفتیش نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق قتل کا یہ واقعہ گزشتہ ماہ بلوچستان کے شہر اوستہ محمد کے نواحی گاؤں بابا کوٹ میں پیش آیا جہاں عمرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والی تین لڑکیوں کو ان کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر گھر سے فرار ہونے پر گولیاں مار دیں۔

جعفرآباد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چودہ جولائی کو عمرانی قبیلے کی اٹھارہ سے بیس سال عمر کی تین بچیاں تمبو باباکوٹ سے بھاگ کر اوستہ محمد آئیں اور وہاں انہوں نے ایک مقامی ہوٹل میں کمرہ لیا۔

تاہم اس دوران عمرانی قبیلے کے مسلح افراد ان کا پیچھا کرتے ہوئے اوستہ محمد پہنچ گئے اور ان بچیوں کو پکڑ کر واپس لے گئے جہاں انہیں قتل کرنے کے بعد باباکوٹ کے کمبولہ قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

جعفر آباد کے ضلعی پولیس افسر نذیر احمد کرد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے علاقے سے تین خواتین کے اغواء اور ملحقہ ضلع نصیر آباد میں ان کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’ان خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا‘۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی ہائیکورٹ نے ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد اس واقعہ پر ازخود کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کو گولیاں مارنے کے بعد زندہ دفن کیا گیا ہے۔ تاہم پولیس حکام کے مطابق ان خواتین کو زندہ دفن نہیں کیا گیا۔

حقوقِ انسانی کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کا تعلق عمرانی قبیلے کی ایک بااثر شخصیت سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکی ہے۔

اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کابینہ کے رکن صادق عمرانی نے کہا کہ ان کے قبیلے کے بعض افراد سیاسی مخالفت کی بنیاد پر اس قتل میں ان کے خاندان کو ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ خواتین دراصل انہی لوگوں نے خود قتل کی ہیں۔

صادق عمرانی نے اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’ان کے قبیلے کی تین خواتین کو سیاہ کاری کی روایت کے تحت انہی کے قبیلے کے بعض افراد نے قتل کیا اور انہیں وہیں ایک قبرستان میں دفن کیا گیا ہے‘۔

ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے اپیل کی ہے کہ ناانصافی پر مبنی اس اندوہناک واقعے پر ملک کے صدر، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے احتجاج کیا جائے اور اس میں ملوث بااثر شخصیات کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے صوبائی اور مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔

 
 
عالمی یوم خواتین
’آج بھی مکمل انصاف کی متلاشی ہیں‘
 
 
میر ہزار بجارانی ونی کیس
ضمانت مسترد، پیپلز پارٹی کے ایم این اے فرار
 
 
اور اب رحیم یار خاں
ونی پر پابندی کے باوجود رسم جاری
 
 
ریپ ’475 خواتین کا قتل‘
’سندھ میں عورتوں پر تشدد کا سلسلہ جاری رہا‘
 
 
’ونی‘ کیسے ختم ہو ؟
’ونی‘ کے حامی کم ہیں لیکن یہ ختم کیسے ہو
 
 
اقبال خان ونی رسم کے محافظ
ونی رسم: پولیس کارروائی سے کتراتی کیوں ہے؟
 
 
اسی بارے میں
سُسر نے زنجیروں میں باندھا
30 September, 2003 | پاکستان
نابالغ بچی کا جبری نکاح
19 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد