BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 August, 2008, 17:49 GMT 22:49 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
 

 
 
چند سالوں میں تین سو سے زائد قبائل مشران کو قتل کیا گیا

بولیویا کے ایک انقلابی رہنماء نےکہا تھا کہ’آخر کار لوگ ہی لوگوں کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں گے۔‘ ان کی یہ بات آج کل پاکستان کے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں مبینہ شدت پسندوں کا راستہ روکنے پراس لیے ایک حد تک صادق آتی ہے کہ ان علاقوں میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے مقامی لوگوں کی جانب سے مسلح لشکر تشکیل دیے جارہے ہیں۔

پاکستانی حکومت گزشتہ کئی سالوں سے طاقت، دولت اور بات چیت کے ذریعے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مصرفِ عمل ہے مگر اس میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ لڑائی چند سال قبل جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے شروع ہوئی تھی اور آج سات قبائلی ایجنسیوں اور صوبہ سرحد کے زیادہ تر اضلاع تک پھیل گئی ہے۔

اس دوران شدت پسندوں اور سکیورٹی کو جتناجانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا اس سے کہیں زیادہ نقصان ان علاقوں کے معصوم لوگوں کو پہنچا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مسلسل جنگ نے بڑی تعداد میں لوگوں سے روزگار چھین لی اور ان علاقوں میں کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کو نذرِ آتش اور دیگر شہری سہولیات سے لوگوں کو محروم کر دیا گیا۔

سِول وار کا خطرہ؟
  مبصرین کا خیال ہے کہ مقامی لوگوں کے اٹھ جانے سے جاری جنگ میں برسِر پیکار فریقین کا کردار بدل سکتا ہے۔ کل تک حکومت اور طالبان دونوں آمنے سامنے تھے جبکہ مقامی آبادی کو خاموش رہنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں سوجھ رہا تھا مگر اب مقامی لشکر کے بن جانے سے طالبان اور مقامی آبادی کا آمنا سامنا ہوسکتا ہے جس کا ساتھ بظاہر’سول وار‘ کا خطرہ جُڑا ہوا ہے۔
 
صرف چند سالوں کے دوران تین سو سے زائد قبائلی مشران کو’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بنایا گیا جس سے سینکڑوں سالوں سے موجود جرگہ سسٹم کمزور جبکہ لوگوں کو ابتر صورتحال سے نمٹنے کا حوصلہ پست ہوگیا۔

حالات کی خرابی نے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا اور انہوں نے طالبان کو اپنے اپنے علاقوں سے بیدخل کرنے کے لیے مقامی لشکر تشکیل دینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

اس رجحان کا آغاز صوبہ سرحد کے ضلع بونیر سے ہوا جہاں پر مقامی لوگوں نے حملہ کر کے چھ طالبان کو مار کر انہیں علاقے سے نکال باہر کیا۔اس کے بعد ضلع دیر میں مقامی لوگوں نے طالبان کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

پشاور کے مضافات میں واقع متنی کے علاقے میں مقامی لوگوں کے ایک جرگے نے سنیچرکے روز سولہ کے قریب طالبان کو پولیس کے حوالے کر دیا۔لکی مروت اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں لوگوں نے اٹھ کر شدت پسندوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے حیران کُن بات طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے باجوڑ ایجنسی میں دیکھنے کو ملی جہاں پر سکیورٹی فورسز کی تین ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کے بعد لوگوں نے ایک مقامی لشکر تشکیل دیکر طالبان کو علاقے سے بیدخل کرنے کا اعلان کیا۔

اس کا آغاز پہلے صدر مقام خار سے ہوا جہاں پر اب بھی مقامی مسلح رضاکار شب وروز پہرہ دے رہے ہیں جبکہ سالازئی کی تحصیل میں اتوار کو قبائلی لشکر نے مشکوک طالبان کے گھروں کو مسمار کردیا۔

باجوڑ میں مقامی لوگوں کی جانب سے اٹھایا جانے والے اس قدم کو اس لحاظ سے غیرمعمولی سمجھا جاتا ہے کہ وہاں پر بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی خوف سے ایک عام شخص اشاروں کنایوں میں طالبان کے خلاف بات کرنے کی جرات تک نہیں کرسکتا تھا۔

حکومت ابھی تک شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے طاقت، بات چیت اور ترقیاتی منصوبوں کی بظاہر’ ناکام‘ پالسی پر عمل پیرا ہے مگر حالات سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کے اٹھ کر کھڑے ہونے نے اس میں ایک اور ’مؤثر‘ حکمت عملی کا اضافہ کر دیا ہے۔

لیکن شدت پسندی کی روک تھام کے لیے یہ حکمت عملی جتنی کامیاب نظر آرہی ہے اس کے ساتھ کئی ایک خطرات بھی جُڑے ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف مقامی لشکر کی جانب سے ہونے والی کاروائیوں کے بعد طالبان مقامی آبادی کو حکومت یافتہ سمجھنے لگے ہیں جس سے ان کی غیرجانبداری کے تاثر کو بظاہر ایک دھچکا پہنچا ہے۔

اگر چہ طالبان نے جوابی کاروائی کے حوالے سے محتاط رویہ اپنا رکھا ہے لیکن اگر اس میں شدت آتی ہے تو گھیرا تنگ ہوتے دیکھ کر وہ مقامی آبادی کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

اس لیے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مقامی لوگوں کے اٹھ جانے سے جاری جنگ میں برسِر پیکار فریقین کا کردار بدل سکتا ہے۔ کل تک حکومت اور طالبان دونوں آمنے سامنے تھے جبکہ مقامی آبادی کو خاموش رہنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں سوجھ رہا تھا مگر اب مقامی لشکر کے بن جانے سے طالبان اور مقامی آبادی کا آمنا سامنا ہوسکتا ہے جس کا ساتھ بظاہر’سول وار‘ کا خطرہ جُڑا ہوا ہے۔

مبصرین کے خیال میں اس حکمت عملی کی کامیابی اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت اور متعلقہ علاقوں کےعوام کے درمیان ایک مربوط اور مؤثر رابطہ کی ضرورت ہے۔

 
 
مقامی طالبان(فائل فوٹو) ناکام حکمت عملی
’طاقت کی بجائے بات چیت سے بات نہیں بنی‘
 
 
گھیرا تنگ ہو رہا ہے؟
بیت اللہ نے آئی ایس آئی مخالف بات پہلے نہیں کی
 
 
طالبائزیشن کے خلاف مہم کا آغاز طالبان سےہوشیار
کراچی میں طالبانئزیشن کے خلاف مہم شروع
 
 
وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
 
 
صحافیوں کو بریفنگ
پاکستان کو سورش کا سامنا: اعلیٰ حکام
 
 
پاکستانی علماء علماء کی خاموشی
طالبان سےنمٹنے کے لیے مشترکہ فتوے کی ضرورت
 
 
آگےدیوارپیچھےگڑھا
آئی ایس آئی اور گیلانی حکومت کی مشکل
 
 
اسی بارے میں
مزید اقدامات کریں: رائس
25 July, 2008 | پاکستان
سوات میں لڑائی، نقل مکانی
01 August, 2008 | پاکستان
باجوڑ طالبان کےگھر نذرآتش
31 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد