BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 12 September, 2008, 06:20 GMT 11:20 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ایک اور امریکی حملہ، بارہ ہلاک
 

 
 
تباہ شدہ گھر(فائل فوٹو)
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں نے ایک مکان اور پرائمری سکول کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔

میرانشاہ میں ایک مقامی صحافی احسان اللہ نے بی بی سی کوبتایا کہ حملے میں نشانہ بننے والے گھر کے مالک شادم خان کا بیٹا یوسف خان، تین بچے اور دو خواتین بھی ہلاک ہوگئی ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے یہ واقعہ جمعہ کی صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے قریباً دو کلومیٹر دور مشرق میں علاقہ ٹول خیل میں پیش آیا اور میزائیل کا نشانہ شادم خان کا گھر بنا۔

مقامی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق میزائل حملہ امریکی جاسوس طیاروں سے کیاگیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق حملے سے پرائمری سکول کے علاوہ قریبی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پرائمری سکول کافی عرصہ سے بند تھا اور وہاں مقامی طالبان رہائش پذیر تھے۔

امریکی حملے
 شمالی وزیرستان میں یہ تازہ ترین حملہ اس وقت ہوا ہے جب پاکستان میں پہلے ہی ان اطلاعات کے بعد ایک بحث چھڑی ہوئی ہے جن میں امریکی صدر جارج بُش کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں پاکستان میں وہاں کی حکومت کی اجازت کے بغیر حملوں کی منظوری دی تھی
 

مقامی آبادی کے مطابق تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے کچھ لاشوں کو نکال لیا گیا ہے جن میں زیادہ تر مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔ حملے کے بعد مقامی طالبان نے ٹول خیل کو جانے والے راستہ بند کر دیا ہے اور ملبے سے نکالی گئی لاشوں کو فوری طور پر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

مقامی صحافی نے کہا کہ میرانشاہ میں حالت انتہائی کشیدہ ہیں۔لوگوں میں زبردست خوف ہراس پھیل گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے قبائلی عمائدین کا پولیٹکل انتظامیہ سے ایک جرگہ بھی ہوا جس میں مسلسل میزائل حملے اور شمالی وزیرستان میں کشیدہ صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔

اس کے علاوہ میرانشاہ کے قریب بنوں جانے والی ایک فوجی قافلے میں شامل گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہے جس کے نتیجہ میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں چار راہ گیر زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو میرانشاہ سول ہسپتال میں داخل کردیا ہے۔سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں توپخانے کا استعمال بھی کیاہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ایک مہینے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔

رواں ہفتے میں ہیں شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہوا تھا جس میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے سے پانچ دن قبل جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگور اڈہ میں امریکہ اور اتحادیوں کے حملے میں بیس عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں یہ تازہ ترین حملہ اس وقت ہوا ہے جب پاکستان میں پہلے ہی ان اطلاعات کے بعد ایک بحث چھڑی ہوئی ہے جن میں امریکی صدر جارج بُش کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں پاکستانی حکومت کی اجازت کے بغیر پاکستانی سرزمین پر حملوں کی منظوری دی تھی۔

میرانشاہ میں تشدد
  میرانشاہ کے قریب بنوں جانے والی ایک فوجی قافلے میں شامل گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہے جس کے نتیجہ میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں چار راہ گیر زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو میرانشاہ سول ہسپتال میں داخل کردیا ہے۔سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں توپخانے کا استعمال بھی کیاہے
 

اسی حوالے سے جمعرات کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی فوج کو پاکستان کی حدود میں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ہے اور پاکستان کے وزیراعظم نے اس بیان کو حکومتی پالیسی قرار دیا ہے۔

صدر بش کی طرف سے پاکستان کی سرحد کے اندر طالبان اور القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر زمینی کارروائی کی اجازت دینے کی خبروں کے حوالے سے امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کونسل اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ اہلکاروں سے ملاقات بھی کی ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان ندیم کیانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بش انتظامیہ نے پاکستانی سفیر کو یقین دلایا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین پر فوجیں اتارنے کے بارے میں کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے اور تین ستمبر کو انگور اڈہ میں فوجی کارروائی جیسے واقعات دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق افغانستان میں مزاحمت کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث پاکستانی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی تیز کرے۔ اسی دوران پاکستان کی حدود میں امریکی جاسوسی طیاروں سے میزائلوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور صرف اس سال میں تقریباً بارہ ایسے حملے ہو چکے ہیں۔

 
 
جلال الدین حقانی(فائل فوٹو) حقانی ایک’اہم ہدف‘
’طالبان پر حقانی کا اثر میزائل حملے کی اہم وجہ‘
 
 
طالبان پاکستان لپیٹ میں
صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقی بھی متاثر
 
 
ایک صف میں نہیں
سیاسی جماعتیں اور فوج ایک صف میں نہیں
 
 
فوجی ہیلی کاپٹر(فائل فوٹو) 11 ستمبراور پاکستان
دہشت گردی کے خلاف جنگ سرحد کی دہلیز پر
 
 
اسی بارے میں
’غیر ملکی فوج کو اجازت نہیں‘
11 September, 2008 | پاکستان
’پاکستانی اجازت ضروری نہیں‘
11 September, 2008 | پاکستان
قومی پالیسی بنتی نظر نہیں آتی
11 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد