BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 10 October, 2008, 17:21 GMT 22:21 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ہندی سال کا بڈو مہینہ اور رام پیر مندر
 

 
 
رام پیر
رام پیر کے پیروکاروں میں سناتن دھرم کی نچلی ذات مینگھواڑ، کولھی، بھیل سنیاسی، جوگی، باگڑی، کھتری اور لوہار شامل ہیں

ہندی سال کے مہینے بڈو کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان کے صوبہ سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں میں پھیلے ہوئے نچلی ذات کے ہندو یاتری ہاتھوں میں سفید جھنڈے لے کر ٹولیوں کی صورت میں ٹنڈوالہ یار کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں اور ان کی منزل راما پیر کا مندر ہے۔

بڈو ساون رت کا آخری مہینہ ہے جب تھر، راجستھان اور گجرات میں فصلیں تیار ہونے کے قریب ہوتی ہیں اور کسان اپنے کاموں سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے صحرائی علاقے تھر اور بھارتی راجستھان میں اسی مہینے میں میلے لگا کرتے ہیں۔

رام پیر جودھپور سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور رانو جے کے شہر میں پانچ سو سال قبل پیدا ہوئے تھے اور وہاں ہی ان کی قبر ہے۔ ان کے پیروکاروں میں سناتن دھرم کی نچلی ذات مینگھواڑ، کولھی، بھیل سنیاسی، جوگی، باگڑی، کھتری اور لوہار شامل ہیں جو بھارت کے ساتھ پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

حیدرآباد سے تیس کلومیٹر دور ٹنڈوالہ یار میں واقع راما پیر کے مندر کے بارے میں وہاں کے مذہبی پیشوا ایشور داس بتاتے ہیں کہ ایک سو سال قبل کھتری قوم کا ایک شخص راما پیر کی سمادھی پر اولاد کی مراد لے کر گیا۔ وہاں انہیں ایک غیبی آواز آئی کہ آپ اپنے شہر ٹنڈوالہ یار میں مندر بنائیں کیونکہ یاتریوں کو یہاں آنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ وہاں بھی لوگوں کی من کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ وہ کھتری وہاں سے دیے میں جوت لیکر یہاں آیا اور یہاں مندر بنایا۔ وہ جوت جسے اکھنڈ جوت کہا جاتا ہے آج بھی روشن ہے۔

رام پیر کے پیروکاروں کے ہاتھوں میں ایک سفید جھنڈا ہوتا ہے جس پر گلابی رنگ میں پاؤں کے نشانات بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس جھنڈے کو دھجا کہا جاتا جو رام پیر کی اپنے پیروکاروں کے لیے چھوڑی ہوئی چوبیس ہدایات میں سے ایک ہے۔

ماہ بڈو کی نو دس اور گیارہ تاریخ کو ہر سال یہ میلہ منعقد ہوتا ہے۔ یاتری جتھوں کی صورت میں ٹنڈوالہ یار شہر کے باہر جمع ہوتے ہیں۔

سانگھڑ کی بسنتی کی شادی کو تین سال ہوگئے ہیں مگر ان کے یہاں اولاد نہیں۔ وہ شوہر کے ساتھ اولاد کی منت لیکر آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھگوان لڑکا دے یا لڑکی اس کی مرضی ہے۔ وہ پر امید ہیں کہ راما پیر ان کی منت پوری کریں گے۔

چنچل و شوخ چنبیلی کہتی ہیں کہ وہ یہاں ہر سال آتی ہیں اور یہاں آکر انہیں خوش ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی مراد تو نہیں بتائی تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کی تمام ہی مرادیں پوری ہوئی ہیں۔

 نوے فیصد لوگ اس سے لاعلم ہیں کے رام پیر کون تھے اور ان کی تعلیمات کیا تھیں۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ ان کے بھگوان ہیں ان کے دور میں لوگ گجرات اور راجستھان کے مختلف علاقوں سے پیدل جاتے تھے کیونکہ اس وقت گاڑیاں نہیں تھی اب یہ ایک روایت بن گئی ہے۔
 
ارجن سولنکی

تھرپاکر سے تعلق رکھنے والے پرتاب رائے گزشتہ پانچ سالوں سے اس میلے میں باقاعدگی سے شریک ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کے دماغ میں پانی بھر گیا تھا اور راما پیر سے منت مانگی اور وہ صحت یاب ہوگئے جس کے بعد سے وہ اب ہر سال یہاں آتے ہیں۔

منت پوری ہونے پر پرشاد دیا جاتا ہے اور مندر پر دھجا (سفید جھنڈا) چڑھایا جاتا ہے اور کچھ لوگ دان بھی دیتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں حیثیت کے مطابق کی جاتی ہیں۔

ارجن سولنکی کا کہنا ہے کہ راما پیر ایک سیکولر اور انقلابی شخصیت تھے جنہوں نے برہمن سماج کے تسلط کے خلاف نچلی ذات کو منظم کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے پیروکاروں میں مینگھواڑ، کولھی، بھیل، جوگی، سیناسی، باگڑی، لوہار اور کھتری شامل ہیں جو برہمن سماج کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے تھے۔

ان کا کہنا ہے نوے فیصد لوگ اس سے لاعلم ہیں کے رام پیر کون تھے اور ان کی تعلیمات کیا تھیں۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ ان کے بھگوان ہیں۔

مندر کے مذہبی پیشوا ایشور لال بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ لوگ راما پیر کی تعلیمات سے لاعلم ہیں اور وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ جھنڈہ لیکر جائیں گے اور ان کی مراد پوری ہوجائے گی۔

ڈاکٹر غلام نبی عمرانی ٹنڈوالہیار ہسپتال میں میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ہیں اور گزشتہ پانچ سال سے یہاں میڈیکل کیمپ لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ راما پیر کی تعلیمات میں تصوف یا صوفی ازم کا زیادہ اثر ہے۔

ایشور لال بتاتے ہیں کہ یہاں تمام ہی ہندو ذاتیں شریک ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس اڈیرو لال پر اکثریت لوہانہ کمیونٹی اور پیر پتھورو پر مینگھواڑ کمیونٹی کے لوگ جاتیں ہیں

ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر پیر مسلم لقب ہے مگر سندھ میں ہندو بزرگوں کو بھی اس لقب سے پکارا جاتا ہے جن میں راما پیر کے علاوہ پیر پتھورو اور پیر اڈیرولال بھی شامل ہیں۔

ایشور لال بتاتے ہیں کہ یہاں تمام ہی ہندو ذاتیں شریک ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس اڈیرو لال پر اکثریت لوہانہ کمیونٹی اور پیر پتھورو پر مینگھواڑ کمیونٹی کے لوگ جاتیں ہیں۔ ’مگر یہاں سب کو ایک ہی برتن میں کھانا پڑتا ہے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ کون ہے۔’

مندر کے باہر موجود بازار میں نوے فیصد دکانیں مسلمانوں کی ہیں اور میلے کے دنوں میں ان کے کاروبار میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔

بھارت میں جب بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی آگ بھڑکی تو اس کی چنگاریاں سرحد پار کر کے یہاں بھی پہنچ گئیں اور اشتعال کا نشانہ راما پیر کا مندر بنا تھا۔ یہاں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی اور بعد میں اس کی دوبارہ تعمیر ہوئی تو اس کو توسیع دی گئی۔ اس کے بعد سے کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں پیش آیا۔

پاکستان میں انیس سو اٹھانوے کی مردم شماری کے مطابق ہندو آبادی ساڑھے چوبیس لاکھ افراد پر مشتمل ہے جن میں سے بائیس لاکھ صوبہ سندھ میں آباد ہیں۔ اس میں اسی فیصد نچلی ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ دس سالوں میں اس آبادی میں کئی فیصد اضافہ ہوا ہے۔

نچلی ذات کے ان ہندوؤں کی زندگی بھوک اور افلاس کے گرد گھومتی ہے اور راما پیر کا مندر نہ صرف میلے کی صورت میں ان کے لیے شاید سال کا واحد خوشی کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی امیدوں کا بھی مرکز ہے۔

 
 
’بس دو سال اور ہیں‘
کیٹی، کھارو چھان: سمندر برد ہوتے ساحلی قصبے
 
 
ناپا کو نوٹس
’ہندو جمخانہ پھِر ہندوؤں کو ملے گا‘
 
 
ہندو دیوتا ہندو بیوہ کا حق
جائیداد میں حِصّے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ
 
 
سندھ ہندو برادری منصوبہ یا بد امنی
سندھ میں ہندو اقلیت ہی نشانہ کیوں؟
 
 
سید پور کا مندر
اسلام آباد میں دو سو اسی سال پرانا مندر
 
 
ہندؤوں کی اذیت
کراچی میں ہندو کمیونٹی ذہنی اذیت کا شکار
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد