BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 October, 2008, 16:52 GMT 21:52 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
خود کش حملہ حرام:فتویٰ تاخیر سے
 

 
 
 حافظ سعید
حافظ محمد سعید نے پاکستان میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کو جہاد ماننے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں فتنہ قرار دیا تھا
متحدہ علماء کونسل کی جانب سے خود کش حملوں کو ناجائز اور حرام قرار دینے پر اگرچہ مختلف حلقوں نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے اور وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک اس کا خیر مقدم کرچکے ہیں۔ بعض حلقے اسے تاخیر سے اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خودکش حملوں کے بارے میں جاری کیے گئے حالیہ اعلامیہ کے دستخط کنندگان مذہبی حلقوں میں مقتدر حیثیت کے حامل ہیں۔ خود اعلامیہ پڑھ کر سنانے والے ڈاکٹر سرفراز نعیمی سنی اکثریت کے ایک بڑے عالم ہیں لیکن چار برس پہلے جب اسی مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے مفتی نے خود کش حملہ کو حرام قرار دیا تھا تو ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے اسی فتویٰ کی مخالفت کی تھی۔

سنہ دوہزار چار میں خود کش حملوں کو حرام قرار دینے والے مفتی منیب الرحمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ڈاکٹر سرفراز نعیمی سے یہ ضرور پوچھے کہ اب ایسے کون سے حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ انہیں اسی فتویٰ کی توثیق کرنا پڑی ہے؟

انہوں نے کہا کہ جس طرح کی اگر مگر لگائی گئی ہے اس سے یہ حالیہ اعلامیہ کسی فتوی سے زیادہ ایک سیاسی بیان دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتویٰ واضح اور دوٹوک ہونا چاہیے۔

جامعہ نعیمیہ میں مختلف مکاتب فکر کے حالیہ اجتماع کے روح رواں جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید تھے۔ حافظ محمد سعید پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی لشکر طیبہ کے بانی ہیں۔

کالعدم لشکر طیبہ پرہندوستان میں کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام تو لگایا جاتا ہے لیکن افغانستان یا قبائلی علاقوں میں ہونے والی شورش میں اس کے براہ راست ملوث ہونے کا کبھی کوئی ثبوت منظرعام پر نہیں آیا۔

حالیہ مشترکہ اعلامیہ سے پہلے حافظ محمد سعید نے پاکستان میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کو جہاد ماننے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں فتنہ قرار دیا تھا۔ خودکش حملوں اور پرتشدد کارروائیوں کے خلاف یہ اسلامی بیانات ایک ایسے موقع پر آرہے ہیں جب پاکستان کی حکومت، انتظامیہ اور فوج قبائلی علاقوں کے شدت پسندوں کے خلاف نئے سرے سے صف آرا ہونے جا رہی ہے۔

ایک دوسرے سے متضاد مسالک کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرلینا یقینی طور پر ایک بڑی کاوش ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ فتویٰ شدت پسندوں کو خود کش حملوں سے باز رکھ سکیں گے؟

پاکستان کے مقامی طالبان پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ خود کش نہیں بلکہ فدائی حملے کر رہے ہیں لیکن یہ وضاحت سامنے نہیں آئی کہ فدائی حملہ آور سے ان کی کیا مراد ہے؟ ایک بات واضح ہے کہ مقامی طالبان متحدہ علماء کونسل کے حالیہ اعلامیہ کےبعد اپنی حکمت عملی میں قابل ذکر تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہیں۔

جہادی تنظیموں سے لمبے عرصے تک رابطے میں رہنے والے سی ایم فاروق کا کہنا ہے کہ یہ فتویٰ قبائلی علاقوں میں کچھ زیادہ موثر ثابت نہیں ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی شدت پسندوں کے ذہن بن چکے ہیں۔ ان کےبقول وہ لوگ پاکستان کے قومی دھارے میں شامل اور سیاسی پالیسی رکھنے والے علماء سے ویسے ہی مایوس ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں خود کش حملوں کو شروع ہوئے ویسے تو کئی برس ہوگئے ہیں لیکن ان میں شدت لال مسجد آپریشن کے بعد آئی ہے۔

سی ایم فاروق نے کہا ہے کہ اگر یہ تمام علماء اتنے ہی مخلص تھے تو انہیں یہ فتوے بہت پہلے اس وقت جاری کر دینے چاہیے تھے جب خود کش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج سے پہلے وہ کہاں سوئے ہوئے تھے اور اب کیوں جاگے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا وہ مُکّہ ہے جو بہتر ہے کہ اب اپنے منہ پر مار لیا جائے۔

 
 
اسی بارے میں
وزیرستان میں راکٹ حملے
05 August, 2008 | پاکستان
طالبان، حکومت اقدامات کرے
05 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد