BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 October, 2008, 22:51 GMT 03:51 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
جسٹس افتخار کا شاندار استقبال
 

 
 
جس ملک کی عدلیہ آزاد ہو اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا: معزول چیف جسٹس افتخار چودھری
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے اس میں آزاد عدلیہ کا ہونا بہت ضروری ہے۔

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے جوش و جذبہ دیکھ کر انہیں بہت حوصلہ ملا ہے اور انہیں یقین ہوگیا کہ وکلاء تحریک کامیاب ہو کر رہے گی۔

حیدرآباد میں جس طرح جسٹس افتخار محمد چودھری کا استقبال ہوا ہے اس سے لگتا ہے کہ آزاد عدلیہ کے لیے وکلاء کی تحریک دوبارہ زندہ ہو چکی ہے۔

معزول چیف جسٹس نے جب رات کے ایک بجے تقریر شروع کی تو لوگوں کی بڑی تعداد ان کی منتظر تھی۔

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو جن نامساعد حالات کا سامنا ہے اس میں مضبوط عدلیہ کی موجودگی انتہائی اہم ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ملک کی بقا اسی میں ہیں کہ ریاست کےتمام ستون اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔

معزول چیف جسٹس نے دوسری جنگ عظیم میں برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کا وہ مشہور قول بھی دہرایا کہ اگر عدلیہ انصاف کر رہی ہو تو اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

ہائے زرداری، ہائے زرداری
 وکلاء نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ وکلاء نے نعرے لگائے’ نیا تماشا، نیا مداری ہائے زرداری، ہائے زرداری، اس ملک کی نئی بیماری، ہائے زرداری، ہائے زرداری، بی بی کس نے ماری، ہائے زرداری ہائے زرداری۔‘
 
وکلاء کی نعرہ بازی

جسٹس افتخار محمد چودھری نے براہ راست حکومت کے کسی فیصلے پر تنقید کرنے سے اجتناب کیا اور صرف اتنا کہا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اچھا نہیں ہو رہا ہے۔

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ مارچ دوہزار سات میں جب پہلی بار ان کے خلاف کارروائی کی گئی تو اس وقت بھی حیدرآباد بار کی دعوت سندھ آئے جس کے بعد وکلاء کی جس تحریک نے جنم لیا وہ سب لوگوں کے سامنے ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری جب وکلاء کنویشن سے خطاب کے لیے کراچی سے حیدرآباد جامشورو ٹول پلازہ پر پہنچے تو ان کا استقبال کرنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور چیف جسٹس کا جلوس چھ گھنٹے کی مسافت کے بعد سول عدالت میں وکلاء کنویشن میں پہنچ پایا۔

پچھلی بار جب معزول چیف جسٹس حیدرآباد میں وکلاء میں آئے تو سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان کا استقبال کرنے کے لیے آئےلیکن اس بار سندھ ہائی کورٹ کا کوئی جج ان کا استقبال کرنے نہیں آیا۔ البتہ میر پور خاص کے ایڈیشنل سیشن جج مٹھار علی جتوئی وکلاء کے کنویشن میں موجود تھے اور ان کی بہت پذایرائی کی گئی۔

نظریے کو شکست نہیں
  دنیا کی کوئی فوج کسی نظریے کو شکست نہیں دے سکتی۔ وکلاء تحریک کو بھی ختم نہیں کیا جا سکتا اور یہ اپنے منطقی انجام تک پہنچے گی۔
 
اعتراز احسن
وکلاء تحریک کے سرکردہ رکن بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنی تقریر میں نپولین کا وہ مقولہ دہرایا کہ دنیا کی کوئی فوج کسی نظریے کو شکست نہیں دے سکتی۔ اعتراز احسن نے کہا کہ وکلاء تحریک کو بھی ختم نہیں کیا جا سکتا اور یہ اپنے منطقی انجام تک پہنچے گی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ آجکل ملک میں محترمہ بینظیر بھٹو کی وصیت کے بڑے چرچے ہیں لیکن محترمہ کی ایک قول کو بھول جاتے ہیں کہ ’جسٹس افتخار میرے چیف جسٹس ہیں اور میں خود ان کے گھر پر جھنڈا لہراؤں گی۔‘

اعتزاز احسن نے کہا کہ امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ہاورڈ نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہاروڈ یونیورسٹی کی تین سو ساٹھ سالہ تاریخ میں صرف تین شخصیات کو ایوارڈ دیئے گئے ہیں جس میں عظیم حریت رہنما نیلسن منڈیلا بھی شامل ہیں۔

وکلاء کے ایک بڑی تعداد نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور ایک موقع پر یہ نعرہ بھی پہلی بار سننے میں آیا’ اس ملک کی بیماری، زرداری، زرداری، بی بی کس نے ماری زرداری زرداری۔‘

اس موقع پر سٹیج سے لوگوں کو ایسی نعرہ بازی کرنے سے باز رہنے کے لیے کہا گیا۔

وکلاء کنویشن میں موجود پیپلز پارٹی کے کچھ کارکنوں نےنعرے بازی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ملک کے صدر کے خلاف اس طرح کی الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔اس موقع پر رسول بخش پلیجو نے پیلپز پارٹی کے حمایتوں کو مشورہ دیا کہ مخالفین کا نکتہ نظر سننے کا حوصلہ پیدا کریں۔

وکلاء تحریک کے ایک اور اہم رکن رشید رضوی نے کہا کہ وکلاء تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کو اپنی بار کے فکنشن میں نہ آنے دیں اور ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔

 
 
اسی بارے میں
مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز
16 August, 2008 | پاکستان
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
وکلاء کی سرگرمیاں اب سندھ سے
14 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد