BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 21 November, 2008, 07:30 GMT 12:30 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ڈی آئی خان،جنازے پرحملہ 8 ہلاک
 

 
 
فائل فوٹو
شیعہ دینی عالم علامہ نذیر حسین شاہ کو بھی قتل کردیا گیا
صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سربراہ ڈاکر عاشق سلیم کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ایک جنازے میں دھماکہ ہونے سے آٹھ افراد ہلاک جبکہ تئیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈاکر عاشق سلیم نے اس بات کی تصدیق بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہی۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس حکام کے مطابق جمعرات کے روز’ ٹارگٹ کلنگ‘ میں ہلاک ہونے والے شاہد اقبال حسین شاہ کے جنازے میں دھماکہ ہوا ہے۔

اس واقعے سے ایک گھنٹہ قبل دو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شیعہ دینی عالم علامہ نذیر حسین شاہ کو قتل جبکہ ایک اور شخص علی گوہر کو زخمی کردیا ہے۔

جائے وقوعہ پر موجود ڈیرہ اسماعیل کے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس ثناءاللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ صبح گیاہ بجے اس وقت پیش آیا ہے جب گزشتہ شب مارے جانے والے شاہد اقبال حسین کا جنازہ کوٹلی امام قبرستان لیجایا جارہا تھا۔

ان کے بقول جنازہ جونہی شہر کے وسط میں واقع بنوں اڈہ کے قریب پہنچا کہ سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکہ ہوا۔

ضلعی رابطہ افسر سید محسن شاہ نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان لیجایا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد مشتعل افراد نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ واقعہ کے بعد پولیس نے پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ شہر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور بازار بند ہوگیا ہے۔

اس سے ایک گھنٹہ قبل ڈیرہ اسماعیل خا ن ہی میں دو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے کلاں بی بی مہتاب کے متولی علامہ نذیر حسین شاہ کو قتل جبکہ ایک اور شخص علی گوہر کو زخمی کردیا۔

علاقے کے ایس ایچ او اسداللہ مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ علامہ نذیر حسین شاہ کو صبح دس بجے گھر سے نکلنے کے بعد راستے میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔

یاد رہے کہ ایک طویل عرصے سے ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ ورانہ فسادت کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے اور اوسطاً ہر ماہ آٹھ سے زائد افراد فرقہ ورانہ اختلافات کے بھینٹ چڑھتے ہیں۔ تاہم جنازے کو بم حملے کا نشانہ بنانا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے بعد فرق ورانہ اور قبیلوی جھگڑوں میں ایک نیا رجحان در آیا ہے۔ پچھلے سال بھی ضلع سوات میں قتل کیے جانے والے پولیس افسر کے جنازے میں ایک مبینہ خود کش حملہ ہوا تھا جس میں اڑتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسکے علاوہ مساجد، سیاسی جلسوں اور جرگوں کو بھی مبینہ خودکش حملوں اور بم دھماکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

 
 
منگل باغ منگل باغ انٹرویو
’جرائم کے خلاف کارروائی جاری رہے گی‘
 
 
ہنگو کا مسئلہ
جھگڑا زمین کے ٹکڑے کا لڑائی فرقے کی
 
 
اسی بارے میں
ڈی آئی خان میں حالت کشیدہ
20 August, 2008 | پاکستان
ڈی آئی خان دھماکہ، ایک ہلاک
17 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد