BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2008, 18:08 GMT 23:08 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
خطوط کا جواب چاہیے: سلمان تاثیر
 

 
 
سلمان تاثیر
وزیر اعلیٰ سے جواب طلب کرنا میرا میرا حق ہے: سلمان تاثیر
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو لکھےگئے خطوط کوئی پریم پتر یعنی محبت نامے نہیں بلکہ آئین کے مطابق لکھےگئے ہیں اور وہ ان کے جوابات کے منتظر ہیں۔

یہ بات انہوں نے لاہور میں ایک تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ بعض لوگ جو قانون کی بات کرتے ہیں خود انہیں قانون کا علم نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب کو جو خطوط لکھے ہیں وہ ان کا آئینی و قانونی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعلیٰ کی صوابدید نہیں بلکہ فرض ہے کہ وہ گورنر کو صوبے میں کیے جانے والے تمام اقدامات سے آگاہ رکھے۔

گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں اور ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقنی بنائیں کہ صوبے میں آئین و قانون کے مطابق کام ہو۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نےوزیر اعلیٰ کو لکھے خط میں جو سوال اٹھائے ہیں وہ آئین کے مطابق ہیں۔

گورنرنے کہا کہ اس کے جواب میں اگر کوئی غلیظ اور فضول زبان استعمال کرنا چاہے یا فضول الزام لگائے وہ اس کی کمزوری ہوگی۔

ان کا اشارہ مسلم لیگ نون کے وزیر قانون کے ان بیان کی جانب تھا جس میں انہوں نے گورنر پنجاب اور ان کے اہلخانہ کے بارے تبصرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ گورنر ہاؤس میں شراب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ ان کے خطوط کا سیدھا سادھا جواب دیا جائے یا کہہ دیا جائے کہ جواب دینا ان کے بس کی بات نہیں ہے لیکن بطور گورنر ان کے کسی آئینی حق کو چیلنج نہ کیا جائے۔

گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ وہ ان دھمکیوں اور غلیظ زبان سے ڈر کے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور اپنا آئینی کردار جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے ان کے ایک دو خطوط کا جواب دیدیا ہے اور باقی خطوط کے جواب کے وہ منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب ان خطوط کا جواب دینے کے پابند ہیں۔

گورنر پنجاب نے اپنے خطوط میں حکومت پنجاب کی بعض اقدامات پر تنقید کی ہے اور کہا ہے وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی۔

ایک خط میں گورنر نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ حکومت پنجاب انتظامی اقدامات اور فیصلوں سے گورنر کو آگاہ نہیں رکھتی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ گورنر سلمان تاثیر کے صوبے میں اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ نون کے وزیر اعلی شہباز شریف کو لکھے گئے خطوط سیاسی کشیدگی کا سبب بنے ہیں۔

ادھر مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے بھی ایک اخباری بیان میں کہہ چکے ہیں کہ گورنر پنجاب صدر آصف زرداری کو ورغلا رہے ہیں۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ آصف زرداری منتخب صدر ہیں وہ انہیں کیسے ورغلا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ کچھ لوگوں کے’گٹے گوڈوں‘ یعنی جڑوں میں بیٹھ گئے ہیں۔گورنر کے بقول بعض لوگ صبح اٹھتے رات سوتے ہر وقت گورنر کا نام لیتے رہتے ہیں۔

گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ انہوں نے اپنی آئینی اور قانونی حثیت سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ مخلوط حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرے۔انہوں نے کہا کہ ان کا کسی سے ذاتی مسئلہ نہیں ہے اور وہ بطور گورنر خط لکھتے رہیں گے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد