BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2008, 11:27 GMT 16:27 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
پاک فضائیہ چوکس، مولن اسلام آباد میں
 

 
 
لوگ چھتوں پر چھڑ کر ان کی پروازیں دیکھتے رہے
بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جارحیت کے پیش نظر پاکستان کی فضائیہ نے ملک کی فضائی حدود کی نگرانی سخت کر دی ہے اور ملک کے بڑے شہروں میں جنگی طیارے گشت کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

اسی دوران امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ایڈمرل مائیکل مولن اچانک اسلام آباد پہنچے گئے ہیں۔
جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اسے ابھی تک بھارت کی طرف سے ممبئی حملوں کے کوئی شواہد یا معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔

بھارتی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں میں گرفتار ہونے والے اجمل قصاب کی طرف سے لکھا ہوا خط دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کے حوالے کردیا گیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق اجمل قصاب نے اپنے خط میں پاکستان کے ہائی کمیشن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

پاک فضائیہ نے ایک اخباری بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ فضائیہ کے طیاروں کو چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور سوموار کو ملک کے بڑے شہروں پر فضائیہ کے طیاروں کی پروازیں معمول کی نہیں تھیں۔

فضائیہ کے ترجمان ائیر کموڈور ہمایوں نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ موجودہ صورتحال کے پیشن نظر پاک فضائیہ نے ملک کی فضائی حدود کی نگرانی سخت کر دی ہے۔

ترجمان نے نگرانی سخت کئے جانے کے اس فیصلے کے پس پردہ محرکات کی تفصیل بتانے سے انکار کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ فضائی نگرانی کسی مخصوص اطلاع کی بنا پر کی گئی ہے یا یہ کہ کسی مخصوص علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ لاہور اور بعض دیگر شہروں میں بھی جنگی طیارے فضا میں پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات میں شدت آ گئی ہے اور بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کے خلاف جنگ سمیت ’تمام آپشنز‘ استعمال کرنے کی بھی بات کی ہے۔

اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے کے ترجمان لو فنٹر نے ایڈمرل مولن کے بارے میں کہا کہ ان کا دورہ پہلے سے طے تھا اور وہ سینئر پاکستانی حکام سے علاقائی امور پر بات چیت کریں گے۔
بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکر جی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا تو بھارت کے پاس سبھی متبادل راستے کھلے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ اور دیگر رہنماؤں کے اس طرح کے بیانات پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف جارحیت ہوئی تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔

دریں اثنا انٹر پول کے سیکریٹری جنرل رونالڈ نوبل منگل کو پاکستان کے دورے پر پہنچ رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے ان کے دورے کی تصدیق کرتےہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمٰن ملک سے ملاقات کریں گے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد