BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 December, 2008, 13:03 GMT 18:03 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
محبت کی ٹرین کو رکنا نہیں چاہیے
 

 
 
تھر ایکسپریس کی روانگی سے قبل اسٹیشن پر پہنچا تو کہیں خوشی کہیں غم نظر آیا
پاکستان اور بھارت میں جاری کشیدگی کے باعث کئی لوگوں کو قبل از وقت اپنے ملکوں کو واپس جانا پڑ رہا ہے، کئی سالوں کے بعد ملنے والے یہ لوگ بوجھل دلوں کے ساتھ واپس روانہ ہوگئے ہیں۔

کراچی کینٹ سٹیشن پر بھارت جانے اور آنے والے مسافروں سے یہ میری تیسری ملاقات تھی، اس سے قبل میں نے تھر ایکسپریس کے افتتاح کا جوش و خروش بھی دیکھا ہے اور پانی پت میں سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں کے بعد بچ کر آنے والوں آنے والوں اور ان کا انتظار کرنے والوں کے کرب کا بھی عینی شاہد ہوں۔ جمعہ کی شب کو جب میں تھر ایکسپریس کی روانگی سے قبل سٹیشن پر پہنچا تو کہیں خوشی کہیں غم نظر آیا۔

واپس بھارت جانے والے ان مسافروں میں کوئی ماں سے ملنے آیا تھا تو کوئی بہن یا بھائی سے مگر اب انہیں اپنے ملک جانا تھا۔ پلیٹ فارم پر داخلے سے قبل کسٹم حکام لوگوں کے سامان کی تلاشی لے رہے تھے تو دوسری طرف کونے میں کھڑے ہوئے انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار ان پر نظریں گاڑے ہوئے تھے۔

خدا حافظ کہنے والے لوگوں کے مجمع میں ایک اداس خاتون نظر آئی، جو اپنی ماں کو روانہ کرنے آئی تھیں۔ مسمات فرزانہ کی پیدائش بھارت کی ہے، وہ پندرہ سال قبل کراچی بیاہ کر آئی تھیں، وہ سمجھتی ہیں کہ انہیں کبھی ایسا نہیں لگا کہ وہ کسی دوسرے ملک میں ہيں۔

فرزانہ کو ماں کے ساتھ جانا تھا مگر انہیں قبل از وقت جانا پڑا، ان کا کہنا ہے کہ حالات خراب ہونے کی وجہ سے ان کی ماں واپس چلی گئیں ۔

’دونوں طرف کے لوگ اچھے ہیں مگر یہ لیڈر پتہ نہیں کیا کرتے ہیں، عوام تو یہ نہیں چاہتی کہ لڑائی جھگڑے ہوں، اس طرف بھی اپنے ہی ہیں کوئی غیر تو نہیں،گر انہیں تکلیف ہوگی تو ہمیں محسوس ہوگی۔‘

سترہ سالہ صغیرہ اور پینسٹھ سالہ صفیعہ مدھ پریش کے برہان نگر کی رہائشی ہیں

افروز اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ بہن شہناز کو چھوڑنے آئی تھیں جو بیس سال کے بعد انہیں ملنے آئی تھی اور یہاں چھبیس دن رہنے کے بعد جا رہی تھیں۔

’حالات کی وجہ سے واپس جارہی ہیں سننے میں آرہا ہے کہ حالات خراب ہوں گے تو گاڑیاں بند ہوجائیں گی، اس وجہ سے وہ چلی گئیں نہیں تو کچھ دنوں کے لیے روکتے مگر وہ نہیں رکیں۔‘

صوبہ سندھ اور گجرات کی سرحدیں تو آپس میں ملتی ہیں مگر لوگوں کو اپنے پیاروں سے ملنے میں ہی برسوں بیت جاتے ہیں۔

ان میں گجرات کے شہر صورت کی حلیمہ بائی بھی شامل ہیں جو پینتالیس برسوں کے بعد بھائی کو ملنے آئی تھیں۔ وہ اس سفر کے اخراجات بھی برداشت نہیں کرسکتی تھیں مگر زندگی کے آخری دنوں میں بھائی کی یاد انہیں یہاں کھینچ لائی تھی۔’میں پڑھی لکھی نہیں، مجھے پتہ نہیں دونوں ملکوں میں کیا ہو رہا ہے۔‘

فرزانہ کی پیدائش بھارت کی ہے، وہ پندرہ سال قبل کراچی بیاہ کر آئی تھیں

حلیمہ کا بیٹا سکندر احمد پر امید ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا، جنگ کی صرف باتیں ہیں۔ حکومتیں مل جل کر مسائل کا حل تلاش کریں۔

سترہ سالہ صغیرہ اور پینسٹھ سالہ صفیعہ مدھیہ پریش کے برہان نگر کی رہائشی ہیں اور یہاں اپنی بہن سے ملنے آئی تھیں۔ حکومتی بیانات کے بارے میں ان کا کہنا ہے’میرا سیاست سے کوئی لینا دینا ہیں کوئی لڑائی نہیں ہوگی یہ سب سب اڑائی ہوئی باتیں ہیں ان میں کوئی دم نہیں۔‘

خدیجہ ابراہیم جونا گڑھ سے بیٹی کو ملنے آئی تھیں اور اس ملاقات سے بہت خوش ہیں یہ خوشی ان کے چہرے سے بھی عیاں تھی، وہ کہتی ہیں کہ ڈر کس بات کا جو ہونا ہے وہ تو ہوکر ہی رہے گا۔

سرخ کپڑے پہنے ہوئے ثمینہ نے ایک ہاتھ میں بیٹے کو پکڑ رکھا تھا، جو نانی کی طرف سے دیے گئے پیزا کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے تھا۔ ثمینہ کی پیدائش کراچی کی ہے اور ان کی شادی پندرہ سال قبل گجرات میں کی گئی۔ وہ ماں باپ کے ساتھ اپنی جنم بھومی کو چھوڑتے وقت افسردہ تھیں، بہتے ہوئے آنسوں میں وہ اور کوئی بات تو نہیں کہہ سکیں صرف اتنا کہا کہ جنگ نہیں ہونی چاہیے۔

امجد چاہتے ہیں یہ تعلقات اور محبت ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوں۔

پاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر فورسز کی تعیناتی اور فوج کو الرٹ کرنے کی اطلاعات کے بعد بھی کئی ایسے بھی لوگ ہیں جو بھارت جا رہے ہیں، ان میں کراچی کے امجد علی خان بھی شامل ہیں جو اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ آگرہ جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں یہ تعلقات اور محبت ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوں۔

’پاکستان اور انڈیا ایک ماں کے دو بیٹے ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں، بس انسانوں نے دلوں میں یہ فرق ڈالا ہے کہ یہ اچھے ہیں یہ برے ہیں، خدا ان کو بھی شاد و آباد رکھے اور ہمیں بھی۔ ان کے بھی دل ملے رہیں اور ہمارے بھی دنیا میں یہ ہی اچھا ہے کوئی بھی معاملہ لڑائی جھگڑے سے حل نہیں ہوا کرتا۔‘

اعجاز حسین اپنی ماں کو چھوڑنے آئے تھے، جو ممبئی جا رہی ہیں، اس شہر جہاں سے دونوں ملکوں کی حکومتوں میں کشیدگی شروع ہوئی، ان اعجاز حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی ماں کو روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ کہتی ہیں جنگ ہو کچھ بھی ہو وہ جائیں گی یہی تو وقت ہے محبت کے اظہار کا۔

ان تمام ہی لوگوں کا کہنا تھا کہ تھر ایکسپریس کی طرح دونوں حکومتوں کو بھی فاصلے کم کرتے ہوئے آگے بڑہانا چاہیے اور محبت کی ٹرین رکنی نہیں چاہیے۔

 
 
اگر پاکستان ۔ ۔ ۔
جنگ نہیں ہو گی لیکن امن بھی نہیں ہو گا!
 
 
انڈین چینل بند
مظفر آباد میں انڈین چینلوں پر پابندی
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد