BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 February, 2009, 17:39 GMT 22:39 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
مولانا صوفی محمد کی دوسری اننگز
 

 
 
  صوفی محمد
صوبائی حکومت سے معاہدے نے صوفی محمد کو ایک بار پھر ’سینٹر سٹیج‘ پر لاکھڑا کیا ہے
آج سے ٹھیک چار برس پہلے صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں چشمے پہنے ایک قدرے کمزور سفید ریش عمر رسیدہ شخص سے ملاقات ہوئی۔ خیال تھا کہ یہ شخص اپنی اننگز کھیل چکے ہیں۔ باہر لوگ ان کے خون کے پیاسے ہیں اور ان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ زندگی کے بچے کھچے دن اب بس اللہ اللہ کر کے ہی بِتا دیں۔

لیکن کیا معلوم تھا کہ سال دو ہزار کے اواخر سے ملک کے انتہائی سخت ترین قید خانوں میں سے ایک میں چار برسوں سے مقید انتہائی نرم گو اور خوش گفتار شخص کی اہمیت ختم نہیں ہوئی ہے۔ اگر وہ چاہتے تو انہیں کافی پہلے رہائی مل چکی ہوتی لیکن یہ رہائی محض اس وجہ سے رکی ہوئی تھی کہ وہ برطانوی قانون کے تحت اپنی رہائی کی اپیل پر دستخط نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اُس وقت ستر سال کی عمر میں بھی مولانا صوفی محمد کافی چاک و چوبند اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ ان سے ملاقات کے لیے پہنچے تو جیل سپرینٹنڈنٹ نے بتایا کہ یہ ملاقات ان کے نائب کے کمرے میں کرنی ہوگی۔ ’صوفی محمد صاحب میرے کمرے میں نہیں آتے کیونکہ یہاں قائد اعظم کی تصویر لگی ہے۔‘

اُس وقت ان کے بارے میں تاثر تھا کہ وہ اس لیے بھی جیل سے باہر نہیں آنا چاہتے کیونکہ مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں وہ لوگ ان کے خون کے پیاسے ہیں جن کے قریبی عزیزوں کو صوفی محمد افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑنے کے مقصد سے سال دو ہزار ایک میں لےگئے لیکن پھر کبھی واپس نہ لائے۔

مولانا صوفی محمد ابتداء میں جماعت اسلامی کے ساتھ منسلک تھے لیکن انیس سو اٹھاسی میں انہوں نے تحریک نفاذ شریعت محمدی کی داغ بیل ڈالی تھی۔

اس ملاقات کے چار برسوں کے بعد یہ ’طور پٹکئی‘ (سیاہ پگڑی) پہننے والی شخصیت پھر نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں چھائی ہوئی ہے۔ انہیں آزادی تو گزشتہ برس ملی لیکن یکایک صوبائی حکومت سے معاہدے نے انہیں ’سینٹر سٹیج‘ پر لاکھڑا کیا ہے۔ اور ایک مرتبہ پھر حامیوں کے کندھوں پر فاتح کی حیثیت سے مالاکنڈ میں داخل ہوئے۔

ان کی تنظیم پر دو ہزار دو میں عائد کی گئی پابندی بےمعنی ہوکر رہ گئی ہے اور حکومت اور سوات کے ’معصوم‘ عوام کو ان سے ایک مرتبہ پھر امیدیں بندھ گئی ہیں۔ ان کے خلاف ماضی کی تلخیاں بظاہر لوگوں نے امن کی خاطر بھلا دی ہیں۔

فروری کے لحاظ سے گرم دنوں میں ایک گھنٹے کی برطانوی تعمیر جیل کے ایک کمرے میں اس ملاقات میں ان سے تفصیلی بات ہوئی۔ دوران قید ان کے خیالات میں کافی تبدیلی آچکی تھی۔ انہوں نے پاکستانی ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کو دہشتگردی اور غیراسلامی قرار دے دیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے قریب جمہوریت بھی ایک غیراسلامی عمل تھا۔

’شریعت اور جمہوریت متضاد چیزیں ہیں۔ جمہوریت کے ذریعے آپ اسلامی نظام نہیں لاسکتے۔‘

اس وقت کے فوجی آمر صدر جنرل پرویز مشرف پر راولپنڈی اور سکیورٹی فورسز پر جنوبی وزیرستان میں حملوں کے بارے میں بھی ان کی رائے تھی کہ یہ کھلی دہشتگردی ہے۔ انہوں نے تاہم ان پر دہشتگردی اور شدت پسندی میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا تھا۔ ’نہیں میں تو محض شریعت سے محبت کرنے والا ہوں۔‘

’شریعت اور جمہوریت متضاد چیزیں ہیں۔ جمہوریت کے ذریعے آپ اسلامی نظام نہیں لاسکتے۔‘

القاعدہ اور طالبان کارروائیوں کے بارے میں وہ کچھ کہنے سے کتراتے رہے۔ ’جو کچھ القاعدہ یا طالبان کر رہے ہیں میں ان کی نہ تو حمایت کرتا ہوں اور نہ ہی مخالفت۔ مجھ سے ان کے بارے میں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔ میں خدا کو اپنے اعمال کا جوابدہ ہوں۔‘

لیکن جب ان سے ہزاروں لوگوں کو افغانستان لے جانے کے بارے میں دریافت کیا تو اس کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام مذہبی تنظیموں نے اس وقت جہاد کی بات کی تھی لیکن جب وقت آیا تو وہ تمام اپنے اعلان سے پلٹ گئیں۔

یہ موقف میدان کے گاؤں سے تعلق رکھنے والے صوفی محمد کے ابتدائی طرز عمل سے یکسر مختلف دکھائی دیتا ہے جب انیس سو چورانوے میں ان کے حامیوں نے سوات میں پرتشدد بغاوت کر دی تھی۔ بعض لوگوں کے خیال میں ان کی تحریک میں شامل شدت پسند عناصر نے ان سے مہم کی قیادت چھین لی تھی۔ لیکن اب وہ دوبارہ امن کی اپیل کے ساتھ سوات پہنچے ہیں اور بظاہر کنٹرول میں بھی ہیں۔

دیکھیں وہ اپنی دوسری اننگز میں کس حد تک کامیاب ہو پاتے ہیں؟

 
 
اسی بارے میں
سوات: شرعی نفاذ کا معاہدہ طے
16 February, 2009 | پاکستان
سوات’نظام عدل‘ پر اتفاق
15 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد