BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 February, 2009, 18:21 GMT 23:21 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ہاری لانگ مارچ کراچی میں داخل
 

 
 
لانگ مارچ میں ہاری اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی اور سیاسی کارکن بھی شریک ہیں۔

صوبہ سندھ میں اکثر غلامی جیسی صورتِ حال کا شکار ہونے والے ہاریوں یعنی کھیت مزدوروں کا لانگ مارچ کراچی میں داخل ہوگیا ہے جس میں درجنوں ہاری اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی اور سیاسی کارکن بھی شریک ہیں۔

حیدرآباد سے شروع ہونے والے اس لانگ مارچ کے شرکا پچھلے نو دن سے پیدل چلتے ہوئے کراچی پہنچے ہیں لیکن اب بھی انہیں اپنی منزل، سندھ اسمبلی پہنچنے تک مزید دو دن اور پیدل چلنا ہو گا۔

مارچ کے اختتام پر جمعرات کی شام شرکا اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور اپنے مطالبات سپیکر کو پیش کریں گے۔

لانگ مارچ کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ حکومت صوبے میں زرعی اصلاحات لائے، ہاریوں کے حقوق سے متعلق قانون سندھ ٹیننسی ایکٹ میں ضروری ترامیم کرے اور جبری مشقت کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔

مارچ کے منتظمین میں شامل ذوالفقار شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ احتجاج کا بنیادی مقصد ہاریوں کے برسوں سے حل طلب مسائل کے حل کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ٹیننسی ایکٹ اٹھاون سال پرانا ہوچکا ہے اور موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

’سندھ ٹیننسی ایکٹ کی بہت ساری شقیں ایسی ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ہیں۔ مثلاً اس میں یہ ہے کہ زمیندار، اپنے ہاریوں سے رواجی کام لے سکتا ہے اور اس رواجی کام میں یہ ہے کہ ہاری مفت میں زمیندار کے گھر اور زمینوں کے کام کریں‘۔

ان کے بقول ایک اور بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ صنعتی مزدوروں کی طرح ہاریوں کے لیے بھی علحیدہ سے عدالتیں قائم کی جائیں۔

بھنڈار ہاری سنگت ہاریوں کے حقوق اور بہبود کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم ہے۔ اس کے سربراہ رمضان میمن بھی لانگ مارچ میں شریک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیننسی ایکٹ اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ وہ ہاریوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کرسکتا۔

’1950 میں اس قانون کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں زمیندار پر 500 سو روپے جرمانہ مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت سونا 63 روپے تولہ تھا اور آج آپ سونے کی قیمت دیکھ لیں کہاں پہنچ گئی ہے اس حساب سے کم از کم جرمانہ دو لاکھ روپے بنتا ہے۔ اب اگر آج کا زمیندار ہاری کی دو لاکھ روپے کی فصل ہڑپ کرجاتا ہے تو اسے کوئی خوف نہیں ہوتا کیونکہ جرمانہ نہ ہونے کے برابر ہے‘۔

لانگ مارچ کے مقاصد
 لانگ مارچ کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ حکومت صوبے میں زرعی اصلاحات لائے، ہاریوں کے حقوق سے متعلق قانون سندھ ٹیننسی ایکٹ میں ضروری ترامیم کرے اور جبری مشقت کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے
 

لانگ مارچ کے شرکا نے اپنا سفر نصف صدی پہلے سندھ میں ہاریوں کو متحد اور منظم کرنے والے سیاسی رہنما کامریڈ حیدر بخش جتوئی کے مزار سے کیا جو حیدرآباد سابق کلہوڑا حکمرانوں کے مزار میں واقع ہے۔

انہی کی قیادت میں کئی برس تک ہونے والی جدوجہد اور سندھ اسمبلی کے گھیراؤ کے بعد 1950ء میں سندھ ٹیننسی ایکٹ منظور ہوا تھا۔

مارچ میں شریک پچھتر سالہ ہاری قادر بخش سیلرو بھی پیدل چلنے والوں میں شامل تھے۔ وہ پچاس کی دہائی میں حیدر بخش جتوئی کی جماعت سندھ ہاری کمیٹی کے ممبر کے طور پر ہاریوں کے حقوق کی جدوجہد میں شامل رہے تھے۔

جب ان سے دریافت کیا کہ اٹھاون سالوں میں ہاری کی زندگی میں کوئی بہتری آئی تو ان کا جواب تھا ’ہماری زندگی اور بدتر ہوئی ہے۔ اٹھاون سال پہلے تیل، ٹریکٹر، کرایہ سستا ہوتا تھا، کھاد کی بوری بھی دو سو روپے کی ہوتی تھی اب تو تین چار ہزار میں ملتی ہے۔اب تو ہاری کو کھیتی باڑی سے کوئی اپت (آمدن) نہیں ہوتی اس لیے وہ شہروں میں جارہے ہیں‘۔

قادر بخش سیلرو نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ہاریوں کی بہتری کے لیے اقدامات نہ کیے تو وہ اپنا آبائی پیشہ چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے اور صوبے میں کھیتی باڑی کے لیے ہاری دستیاب نہیں ہوگا۔

لانگ مارچ میں سولہ سالہ ڈاڑھوں بھی ملے جو جلوس کے ساتھ چلنے والی ایدھی کی ایمبولینس میں سوار تھے۔ انہوں نے بتایا ’پیدل چل چل کر ٹانگوں میں زخم ہوگئے ہیں اور بخار بھی ہے۔ اس لیے ایمبولینس میں پڑا ہوں‘۔

ڈاڑھوں پانچویں جماعت میں پڑھتے ہیں اور لانگ مارچ میں شرکت کے لیے ضلع بدین سے آئے تھے۔ جب ان سے پوچھا کہ سکول چھوڑ کر مارچ میں کیوں شامل ہوئے تو ان کا جواب سادہ سا تھا۔ ’اس لیے کہ ہمارے آدمی غریب ہیں ان کے پاس زمینیں نہیں ہیں۔ اسی لیے ہم آئے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ہمارے کو مل سکے‘۔

 
 
ہونٹ سینے کی سزا
قیدی کے ہونٹ سینے پر سات پولیس اہلکار معطل
 
 
لانگ مارچ 100خاندان اغوا
سو سے زائد مغوی ہاری خاندانوں کیلیے مارچ
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد