http://www.bbc.com/urdu/

Tuesday, 10 February, 2009, 17:15 GMT 22:15 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

نہ سچائی کمیشن بنا، نہ بازیابی ہوئی

خیال تھا کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کے قیام سے شورش زدہ بلوچستان میں شاید حالات بہتر ہوں لیکن ایک سال ہونے کو ہے لیکن پھر بھی بلوچستان کے حالات میں بظاہر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

صد رآصف علی زرداری نے اپنے پیش رو صدر پرویز مشرف کے دور میں فوجی آپریشن پر بلوچ قوم سے اپنے ناکردہ گناہوں کی معافی مانگی اور بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے کل جماعتی کانفرنس بلانے اور جنوبی افریقہ کے طرز پر سچائی کمیشن بنانے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے ایسے اعلانات سے بلوچستان کی بعض مزاحمتی شدت پسند تنظیموں نے اپنی کارروائیاں معطل کردیں اور بہتری کی ایک امید بھی پیدا ہوئی۔

لیکن تاحال سچائی کمیشن بنا اور نہ ہی بچوں، خواتین اور نوجوانوں سمیت سینکڑوں لاپتہ افراد بازیاب ہوسکے ہیں۔ ہاں البتہ سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو مبینہ طور پر زدو کوب کرنے سمیت بعض مقدمات ختم ہوئے اور ان سمیت کچھ کارکنان ضمانتوں پر رہا ضرور ہوئے۔ کانفرنس بھی منعقد کی اور سفارشات بھی مرتب ہوئیں لیکن ان پر عمل نہیں ہوا۔

لیکن جب چھ آٹھ ماہ تک شدت پسند تنظیموں نے اپنی کارروائیاں معطل رکھیں تو اس دوران حکومت کی جانب سے مزید اقدامات نہیں ہوئے تو سب سے پہلے نواب اکبر بگٹی کے پوتے برہمداغ بگٹی نے اپنی جماعت جمہوری وطن پارٹی کا نام تبدیل کرکے بلوچستان ریپبلکن پارٹی رکھتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی۔ اس کے ساتھ ہی بلوچ ریپبلکن آرمی نے پرتشدد کارروائیاں شروع کردیں۔

جس کے ساتھ ہی کچھ دیگر شدت پسند تنظیمیں بھی سرگرم ہوگئیں۔ حالیہ دنوں میں بلوچوں کی مبینہ شدت پسند تنظیموں کی تعداد میں جہاں اضافہ ہوا ہے وہاں پُر تشدد واقعات بھی بڑھے ہیں۔

اس بارے میں جب بلوچستان کی ایک قوم پرست جماعت ’بلوچستان نیشنل پارٹی‘ کے ایک سرکردہ رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی رؤف مینگل سے وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ جب جمہوری حکومت کے دور میں بھی فوجی کارروائی جاری ہوں اور چھ ہزار سے زیادہ سیاسی لاپتہ سیاسی کارکن (بشمول خواتین اور بچے) بازیاب نہ ہوسکیں تو ظاہر ہے کہ ان کے رشتہ داراوں کا رد عمل کیا ہوگا؟

شدت پسند تنظیموں کی تعداد میں اضافے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان میں سے بعض ایسی بھی ہیں جو بلوچوں سے منسوب ہیں اور اصل میں کام سیکورٹی فورسز کے لیے کرتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ وہ اتنا سنگین الزام لگا رہے ہیں اور ان کے پاس کیا ثبوت ہے تو وہ اس کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔

بلوچستان کی ایک اور قوم پرست تنظیم نیشنل پارٹی کے ایک رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ سے جب بلوچ شدت پسند تنظیموں میں اضافے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آنے سے جو امیدیں پیدا ہوئیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔

’اب بھی ایسا لگتا ہے کہ اختیار عوام کی منتخب اسمبلیوں اور حکومتوں کے پاس نہیں بلکہ مقتدر حلقے ہی طاقتور ہیں اور بلوچستان میں عملی طور پر حالات تبدیل نہیں ہوئے جس کی وجہ سے بلوچ نوجوانوں میں باغیانہ رویہ اختیار کرنے کی سوچ بڑھ رہی ہے‘۔

امیدیں پیدا ہوئیں، پوری نہیں ہوئیں
 اب بھی ایسا لگتا ہے کہ اختیار عوام کی منتخب اسمبلیوں اور حکومتوں کے پاس نہیں بلکہ مقتدر حلقے ہی طاقتور ہیں اور بلوچستان میں عملی طور پر حالات تبدیل نہیں ہوئے جس کی وجہ سے بلوچ نوجوانوں میں باغیانہ رویہ اختیار کرنے کی سوچ بڑھ رہی ہے
 
اسحاق بلوچ

بلوچستان میں پہلے تو ایک ہی مزاحمتی تنظیم ’بلوچستان لبریشن آرمی‘ کا نام آتا رہا اور کئی پرتشدد واقعات کی وہ ذمہ داری بھی قبول کرتی رہی لیکن اب بلوچستان میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث نصف درجن ایسی تنظیموں کے نام سامنے آتے ہیں۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) : یہ تنظیم جب کوئی پرتشدد کارروائی کرتی تو پہلے آزاد بلوچ نامی اس کا ترجمان ذمہ داری قبول کرتا اور میڈیا کو فون کرتا تھا۔ لیکن آج کل بیبرک بلوچ نامی کوئی شخص اس کے ترجمان ہیں۔ اس تنظیم کی زیادہ تر پرتشدد کارروائیاں کوہلو، مچھ، دشت، کوئٹہ اور چمالانگ کے علاقوں میں رہیں۔ سیکورٹی فورسز اس تنظیم کا سربراہ بالاچ خان مری کو قرار دیتی رہیں اور ان کے مطابق اس کے زیادہ تر مزاحمت کار بھی مری قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ بالاچ خان نومبر سن دو ہزار سات میں مارے گئے لیکن یہ تنظیم اب بھی سرگرم ہے۔

بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) : اس تنظیم کی زیادہ تر کارروائیاں ضلع ڈیرہ بگٹی اور ڈیرہ مراد جمالی تک محدود ہیں۔ اس تنظیم کا دعویٰ زیادہ تر گیس پائپ لائن اڑانے اور سیکورٹی فورسز کے قافلوں اور چوکیوں پر حملوں کرنے کے متعلق رہے۔ اس تنظیم کے ترجمان سرباز بلوچ ہیں اور عام تاثر ہے کہ اس کا تعلق برہمداغ بگٹی سے ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد برہمداغ نے باگ دوڑ سنبھالی اور وہ اپنے قبیلے کے متعدد افراد کے ہمراہ اِن دنوں افغانستان میں مقیم ہیں۔ اس تنظیم کے زیادہ تر مزاحمت کار بگٹی قبائلی ہیں۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) : اس تنظیم کی بیشتر کارروائیوں کا محور مکران، تربت، پنجگور، آواران اور قلات وغیرہ کے علاقے رہے ہیں۔ اس تنظیم کے ترجمان خود کو کرنل دودا خان بلوچ کہتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس تنظیم میں زیادہ تر ساحلی علاقے کے نوجوان شامل ہیں۔

بلوچ ورنا: بلوچی زبان میں ورنا کا مطلب ہے نوجوان۔ اس تنظیم میں زیادہ تر طالبعلم شامل ہیں۔ پہلے یہ پرتشدد کارروائیوں میں شامل نہیں رہی۔ لیکن چند روز قبل کوئٹہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی بسوں کو جلانے میں اس کا نام آیا۔ اس تنظیم نے تین ماہ تک احتجاجی کیمپ لگایا اور مطالبہ کیا کہ صوبے کی واحد ’آئی ٹی یونیورسٹی، کی داخلہ پالیسی تبدیل کی جائے۔ اس یونیورسٹی کی پالیسی ہے کہ اسی فیصد داخلے میرٹ پر اور بیس فیصد بلوچستان کے کوٹہ پر ملتے ہیں۔ لیکن بلوچ ورنا کا مطالبہ ہے کہ بولان میڈیکل کالج کی طرح بلوچستان کے تمام اضلاع کے لیے کوٹہ مختص کریں۔ جب حکومت نے ایسا نہیں کیا تو یہ پرتشدد واقعات پر اتر آئے ہیں۔
برہمداغ بگٹی
برہمداغ بگٹی نے اپنی جماعت جمہوری وطن پارٹی کا نام تبدیل کرکے بلوچستان ریپبلکن پارٹی رکھتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی

جھلاوان ٹائیگرز : اس تنظیم کی زیادہ تر کارروائیاں زہری، قلات، خضدار، وڈھ، لسبیلہ اور حب کے علاقوں میں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ اس تنظیم کے لوگ اکثر کارروائیوں میں معدنیات لے جانے والے ٹرکوں کے ٹائر پھاڑنے کی وارداتوں میں مصروف رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق پنجابی زبان بولنے والے ڈرائیورز کو نشانہ بنانے میں بھی ان کا نام آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی معدنیاں صوبے سے باہر نہ جائے۔

بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ ( بی ایل یو ایف) : یہ ایک نئی تنظیم ہے جو کوئٹہ میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے متعلق ادارے کے سربراہ جان سلیکی جو امریکی شہری ہیں ان کے اغوا کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس تنظیم کے متلعق برہمداغ بگٹی نے بھی حیرانی ظاہر کی ہے اور اکثر بلوچ قومپرست رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی اس تنظیم کا پہلی بار نام سنا ہے۔