BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 March, 2009, 04:44 GMT 09:44 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
لنکن ٹیم پر حملہ، 8 کھلاڑی زخمی، چھ پولیس اہلکار ہلاک
 

 
 
حملہ آوروں میں سے کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکا

لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس پر منگل کی صبح تقریباً ایک درجن حملہ آوروں کی فائرنگ سے سری لنکا کے آٹھ کھلاڑی زخمی اور پنجاب پولیس کے پانچ اور ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ دو نامعلوم افراد بھی مارے گئے ہیں۔

سری لنکا کے کرکٹ حکام کے مطابق زخمیوں ہونے والے کھلاڑیوں میں سمرا وِیرا، اجنتا مینڈس، کمارا سنگاکارا اورتھرنگا پرانا وتھانا شامل ہیں۔

اسی دوران لندن میں آئی سی سی کے اعلی اہلکاروں نے کہا ہے کہ پاکستان میں عنقریب کرکٹ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگت نے کہا کہ اب تک یہ کہا جاتا تھا کہ کھلاڑی براہ راست نشانہ نہیں ہیں لیکن اب یہ صورتحال بدل گئی ہے۔

آئی سی سی کے صدر ڈیوڈ مارگن نے کہا کہ لاہور کے حملے سے بین الاقوامی کرکٹ کا منظر نامہ ہی بدل گیا ہے۔

ہسپتال منتقل کیے جانے والے دو کھلاڑیوں میں سے ایک سمرا ویرا ہیں جنہوں نے کل ہی اسی قذافی سٹڈیم میں ڈبل سینچری بنائی تھی۔ دوسرے پرنا وی تھانہ ہیں ان دونوں کو بھی سری لنکا بھجوانے کا انتظام کیا جارہا ہے۔

ان کھلاڑیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر فیاض رانجھا کے مطابق دونوں کھلاڑی خطرے سے باہر قرار دیا ہے۔ سمرا ویرا کے کولہے میں گولی لگی تھی جب کہ پرانا وتھانا کے سینے میں کچھ چھرے لگے تھے۔

سابق کرکٹر عبدالقادر کا کہنا ہے کہ وہ دونوں کھلاڑیوں سے ملکر آئے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر
پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا کہنا تھا کہ اس حملے میں وہی عناصر ملوث ہیں جنہوں نے بھارت کے شہر ممبئی پر گزشتہ سال حملہ کیا تھا

عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ مقامی وقت کے مابق صبح آٹھ بجکر چالیس منٹ پر اس وقت پیش آیا جب سری لنکا کی ٹیم ایک بس میں ہوٹل سے قذافی سٹیڈیم جا رہی تھی۔ جس وقت بس لاہور کے تجارتی علاقے لیبرٹی سکوائر پہنچی تو اس پر ایک دستی بم پھینکا گیا۔ یہ مقامی قذافی سٹیڈیم سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

فائرنگ کے بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر جائے واردات پر پہنچ گئے اور انہوں نے کہا کہ اس حملے میں وہی عناصر ملوث ہیں جنہوں نے بھارت کے شہر ممبئی پر گزشتہ سال حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تربیت یافتہ دہشت گرد معلوم ہوتے تھے جنہوں نے بڑے سکون کے ساتھ یہ کارروائی کی ہے۔ حکام حملہ آوروں کے القاعدہ، طالبان، کشمیری شدت پسندوں یا تامل باغیوں سے تعلق کا پتہ چلانے کی کوشش کریں گے۔

لاہور سٹی پولیس کے سربراہ حاجی حبیب الرحمان نے کہا کہ کسی بھی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد نقاب پوش مسلح افراد ایک کار چھین کر فرار ہو گئے۔

سری لنکا کےکم سے کم آٹھ کھلاڑیوں کو پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے قذافی سٹڈیم سے منتقل کیا گیا۔ ٹیم کو خصوصی طیارے سے کولمبو بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے سری لنکا ٹیم کے دورے کی منسوخی کا باضابطہ اعلان پہلے ہی کردیا تھا۔

لاہور سے سری لنکا کی ٹیم روانہ
سری لنکا کی ٹیم کو ایک خصوصی ہیلی کلاپٹر کے ذریعے لاہور کے قذافی سٹیڈیم سے روانہ کیا گیا

حملے میں میچ کے چوتھے ایمپائر احسن رضا شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت ابھی خطرے سے باہر نہیں ہے۔ ان کے پیٹ میں گولیاں لگی ہیں اور ان کا آپریشن کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری نے حملہ کو بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

ادھر کولمبو میں سری لنکا کے صدر مہندا راجاپکشا نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ کو فوراً پاکستان جانے کا حکم دیا ہے تاکہ ٹیم کو واپس لانے کا انتظام کیا جاسکے۔

ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر میں حملہ آوروں کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

سری لنکا کی ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس کے ڈرائیور خلیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ قدافی سٹیڈیم کے قریب لبرٹی چوک کے پاس ان کی بس پر عقب سے ایک دستی بم پھینکا گیا جو کہ بس پر نہیں لگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد سامنے کی جانب سے بھی ایک نقاب پوش حملہ آور نے دستی بم پھینکا جو کہ بس کے نیچے گرا لیکن انہوں نے بس کی رفتار بڑھا دی اور دستی بم بس کے پیچھے پھٹا۔

خلیل احمد نے بتایا کہ اس دوران بس پر چاروں طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی جس میں ان کے مطابق دو کھلاڑی زخمی ہو گئے۔ بعض حملہ آور نقاب پوش تھے۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد بارہ سے پندرہ تک تھی جو مختلف اطراف سے بس پر فائرنگ کر رہے تھے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد