BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 March, 2009, 23:01 GMT 04:01 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سری لنکن ٹیم کولمبو میں، تحقیقات جاری
 

 
 
ٹیم خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور سے کولمبو پہنچی

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم لاہور حملے کے بعد ایک خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور سے کولمبو واپس پہنچ گئی ہے جبکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی ٹیم پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔

کولمبو کے ہوائی اڈے پر کھلاڑیوں کے اہل خانہ اور پرستار بے چینی سے ٹیم کا انتظار کر رہے تھے۔ کھلاڑیوں کے جہاز سے اترنے کے بعد جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

قبل ازیں لاہور کے ہوائی اڈے پر کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں اور قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان سمیت دیگر افراد نے سری لنکن کی کرکٹ ٹیم کو رخصت کیا۔ یہ کھلاڑی سری لنکن ائیر لائنز کے چارٹر طیارے کے ذریعے کولمبو کے لیے روانہ ہوئے۔

ادھر پولیس نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے کے الزام میں چودہ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ انسداد دہشتگردی کےقانون کے علاوہ دیگر فوجداری دفعات کے تحت درج کیا گیا۔

لاہور حملہ
 اچانک سب نے چیخنا شروع کر دیا کہ بس کے فرش پر لیٹ جاؤ کوئی فائرنگ کر رہا ہے۔سب فرش پر لیٹ گئے اور ہمیں بس پر لگنے والی گولیاں کی آوازیں آ رہی تھیں اور اس دوران کئی دھماکے بھی ہوئے۔
 
کمارا سنگاکارا

منگل کی صبح قدافی سٹیڈیم کے قریب سری لنکا کے کھلاڑیوں کی بس پر نامعلوم افراد کے حملے میں سری لنکا کے سات کھلاڑی اور ان کے برطانوی اسسٹنٹ کوچ پال فاربریس زخمی جبکہ ان کی حفاظت پر مامور چھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقع میں ہلاک ہونے والے چھ پولیس والوں کی نماز جنازہ منگل کی رات کو پولیس لائنز میں ادا کی گئی جس میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے بھی شرکت کی۔

سری لنکا کی ٹیم کے جو کھلاڑی زخمی ہوئے ان میں سری لنکا کے تیز رفتار بالر چمندا واس، کراچی کے بعد قدافی سٹیڈیم میں بھی لگاتار دو میچوں میں ڈبل سنچری سکور کرنے والے بلے باز تلھان سماراویرا، وکٹ کیپر کمار سنگاکارا، ’کیرم بال‘ کرانے کے ماہر بالر اجنتا مینڈس، اوپنگ بلے باز تھرنگا پراناوتنا، کپتان مہیلاجے وردھنے اور سرنگا لکما شامل ہیں۔

کمارا سنگاکارا نے بس کے ڈرائیور کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بس نہیں روکی اور اسے تیزی سے سٹڈیم کی طرف لے گیا جس کی وجہ شاید سب بچ گئے۔

کھلاڑیوں کی بس کے پیچھے پولیس جیپ میں سوار پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے

انہوں نے کہا کہ ’اچانک سب نے چیخنا شروع کر دیا کہ بس کے فرش پر لیٹ جاؤ کوئی فائرنگ کر رہا ہے۔سب فرش پر لیٹ گئے اور ہمیں بس پر لگنے والی گولیاں کی آوازیں آ رہی تھیں اور اس دوران کئی دھماکے بھی ہوئے‘۔

گورنر پنجاب نے رات گئے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لاہور حملے میں اب تک ہونے والی تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہے تاہم ابھی اس بارے میں بتایا نہیں جاسکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے کھلاڑیوں پر حملے کی تحقیقات چار مارچ تک مکمل ہوجائیں گی اور جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں اس وقت کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔

انہوں نے بتایا کہ تمام صورت حال کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اگر حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی ثابت ہوئی تو اس پر یقینی طور پر کارروائی کی جائے گی۔

سری لنکا کے کپتان لاہور ایئر پورٹ پر اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے

گورنر سلمان تاثیر نے بھارتی وزیر داخلہ کے پر اس بیان پر افسوس ظاہر کیا جس میں انہوں نے لاہور حملے کو حفاظتی انتظامات میں بھیانک کوتاہی قرار دیا ہے۔

گورنر پنجاب کا کہنا ہے آج کے واقعہ میں ملوث افراد کوئی عام قاتل نہیں بلکہ تربیت یافتہ پیشہ وار قاتل ہیں۔انہوں نے کہا وہ بھارت کی طرح جلد بازی میں کسی کے خلاف الزام نہیں لگائیں گے۔

وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک نے اس واقعہ کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر ڈالی ہے اور کہا ہے کہ کوتاہی برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس واقع کی تحقیقاتی رپورٹ چوبیس گھنٹے میں پیش کر دی جائے گی۔

پنجاب کے حال ہی نااہل قرار دیے جانے والے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ حفیہ اداروں کی طرف سے سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بارے میں پہلے سے خبردار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل بھی جب سری لنکا کی ٹیم ایک روزہ میچ کھیلنے کے لیے لاہور آئی تھی اس وقت بھی ان پر ممکنہ حلموں کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا جس کے پیش نظر مناسب حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

 
 
سری لنکا کی ٹیم پرحملہ حملہ آور کون ہیں ؟
حملے کا مقصد کیا ہے اور اس کے پیچھے کون ہے؟
 
 
خلیل احمد ڈرائیورنے کیا دیکھا
ڈرائیور کی چابک دستی سے کھلاڑی بچ گئے
 
 
حملہ آور لاہور میں حملہ
سری لنکن کرکٹرز پر حملے کے بعد کی تصاویر
 
 
دو حملہ آور نشانہ: سری لنکن ٹیم
حملے کے بارے میں عینی شاہدین نے کیا کچھ بتایا
 
 
 لاہور میں ٹیم پر حملہ سکیورٹی کے خدشات
غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے بچتی رہی ہیں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد