BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
لاہور: چار حملہ آوروں کے خاکے جاری
 

 
 
 حملہ آوروں کے فرار کی فوٹیج
پولیس ابھی تک حملہ آوروں تک نہیں پہنچ سکی ہے: پولیس سربراہ
لاہور پولیس کے سربراہ حبیب الرحمن نےکہا ہے کہ سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملہ آوروں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کئی مشتبہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پنجاب پولیس کے سربراہ حبیب الرحمٰن نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مشتبہ لوگوں کو پکڑا جا رہا ہے۔

پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ کسی معمولی گروپ کی کارروائی نہیں تھی۔ حاجی حبیب الرحمٰن نے اس عام خیال کی تردید کی کہ ٹیم کی حفاظت کے لیے پولیس کا خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا تھا

ادھر پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پر کلوز سرکٹ کیمروں سے تیار کی گئی ایک فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں سری لنکن کھلاڑیوں کی بس پر حملہ کرنے والے افراد کو فرار ہوتے دکھایا گیا ہے۔

اس تدوین شدہ فوٹیج میں جائے وقوعہ کی قریبی گلیوں کی مناظر موجود ہیں جہاں مسلح افراد حرکت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

جیو ٹی وی پر دکھائی جانے والی اس فوٹیج کی ابتداء میں ایک شخص موٹر سائیکل پر سوار آتا دکھائی دیتا ہے اور وہ گلی کی دوسری جانب سے آنے والے دو افراد کو اس موٹر سائیکل پر بٹھا کر روانہ ہو جاتا ہے۔

اس فوٹیج میں جائے وقوعہ کی قریبی گلیوں کی مناظر موجود ہیں جہاں مسلح افراد حرکت کرتے دکھائی دے رہے ہیں

اس کے بعد فوٹیج میں تین افراد کو دکھایا گیا ہے جن میں سے کم از کم دو مسلح ہیں اور وہ بھی اسی سڑک پر چل رہے ہیں جبکہ ان میں سے ایک بعد ازں ایک عمارت میں داخل ہو جاتا ہے۔

ادھر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ منگل کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے جان لیوا حملے کے متعلق کچھ اہم شواہد ملے ہیں جس کے متعلق سری لنکا کی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے جبکہ حکومت پنجاب نے ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سری لنکا کے وزیرِخارجہ روہتا بگولہ گامہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو بہت جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا ایک وفد بہت جلد سری لنکا کا دورہ کرے گا جہاں پر وہ اس واقعہ کی تحقیقات کی پیش رفت کے بارے میں سری لنکن حکام کو آگاہ کریں گے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور دنیا کو اس خطرے کا مقابلہ کرنے کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

سری لنکا کے وزیر خارجہ نے لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے کو دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کی ایک سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعہ کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا خود دہشت گردی کا شکار ہے اورگذشتہ 27 سال سے سری لنکا شدت پسندوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کو سنہ 2011 کے عالمی کرکٹ کپ کی میزبانی سے محروم نہ کرے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور حملے کے ذمہ داران کی نشاندہی پر انعام کا اعلان مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے ایک اشتہار کی صورت میں کیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو کے علی سلمان کے مطابق صفحہ اول پر شائع ہونے والے اشتہار میں دو مبینہ شدت پسندوں کی تصویریں دی گئی ہیں۔ملزمان ان تصاویر میں ہاتھوں میں رائفلیں اٹھائے اور کمر پر بستے لادے دکھائی دے رہے ہیں لیکن کسی تصویر میں بھی ملزموں کی شکل واضح نہیں ہے۔

لاہور پولیس کو ان چودہ نامعلوم ملزمان کی تلاش ہے جنہیں گلبرگ تھانے میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔یہ مقدمہ انسداد دہشتگردی کےقانون کے علاوہ دیگر فوجداری دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ان ملزموں نے منگل کی صبح سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا، ان پر راکٹ فائر کیے، دستی بم پھینکا اور فائرنگ کی جس سے چھ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے جبکہ سری لنکا کے سات کھلاڑی اور ایک پاکستانی امپائر زخمی ہوئے۔

پولیس کے پاس دوسرا بڑا سراغ وہ بستے ہیں جو بم ڈسپوزل سکواڈ کے ایک اہلکار کے مطابق شہر کے نو مختلف مقامات سے ملے۔ بظاہر ملزموں نے فرار ہوتے ہوئے یہ بستے شہر کے مختلف حصوں میں پھینکے تھے۔ پولیس کو یہ بستے گلبرگ، مکہ کالونی اور لبرٹی چوک کے اردگرد سے ملے۔

انعام کا اعلان ملکی اخبارات میں کیا گیا ہے

لاہور پولیس مکہ کالونی اور گلبرگ کے اردگرد کی نسبتاً پسماندہ آبادیوں میں سرچ آپریشن کر رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ پراپرٹی ڈیلروں سے ان افراد کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں میں کوئی مکان کرایے پر لیا تھا۔

حملہ آوروں کے بستوں سے ملنے والے اسلحہ اور بارود کی ساخت سے بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس قسم کا اسلحہ کس شدت پسند گروپ کے زیر استعمال رہتا ہے۔

حکام کے مطابق ملزمان کے بستوں سے پانی کی بوتلیں، خشک میوہ جات اور کھانے پینے کی ایسی اشیا برآمد ہوئی ہیں جنہیں دیر تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پولیس افسران کاخیال ہے کہ ممکن ہے کہ ملزموں کے منصوبے میں بس کو ہائی جیک کرنا اور کھلاڑیوں کو یرغمال بنانا شامل ہو لیکن پولیس اہلکاروں کی فائرنگ اور بس ڈرائیور کی حاضر دماغی کی وجہ سے کھلاڑیوں سے بھری بس ان کے نرغے سے نکل گئی۔

سری لنکن کھلاڑیوں کی وطن واپسی پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے

سی آئی ڈی کی اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے اہلکاروں سے بھی رابطہ کیا جارہاہے جنہوں نے سری لنکا ٹیم پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔پولیس نے ملزموں کی چھوڑی ہوئی گاڑی کی نمبر پلیٹ کے ذریعے ملزموں تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن کار کی رجسٹریشن بک پولیس کو ایک بند گلی میں لے گئی ہے۔ ایک پولیس افسر کےمطابق یہ گاڑی کسی طغرل خان نامی شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

اس شخص نے جن لوگوں کو یہ گاڑی فروخت کی تھی ان کے شناختی کارڈ اور موبائل ٹیلی فون نمبر جعلی نکلے ہیں البتہ اسی رجسڑیشن نمبر پر ایک کار کراچی بھی چل رہی ہے جو پولیس کے بقول نان کسٹم یا چوری کی ہوسکتی ہے۔

ادھر سری لنکا کی ٹیم منگل اور بدھ کی درمیانی شب واپس کولمبو پہنچ گئی ہے۔کولمبو کے ہوائی اڈے پر کھلاڑیوں کے اہل خانہ اور پرستار بے چینی سے ٹیم کا انتظار کر رہے تھے۔ کھلاڑیوں کے جہاز سے اترنے کے بعد جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

 
 
سری لنکا کی ٹیم پرحملہ حملہ آور کون ہیں ؟
حملے کا مقصد کیا ہے اور اس کے پیچھے کون ہے؟
 
 
خلیل احمد ڈرائیورنے کیا دیکھا
ڈرائیور کی چابک دستی سے کھلاڑی بچ گئے
 
 
حملہ آور لاہور میں حملہ
سری لنکن کرکٹرز پر حملے کے بعد کی تصاویر
 
 
دو حملہ آور نشانہ: سری لنکن ٹیم
حملے کے بارے میں عینی شاہدین نے کیا کچھ بتایا
 
 
 لاہور میں ٹیم پر حملہ سکیورٹی کے خدشات
غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے بچتی رہی ہیں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد