BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 March, 2009, 00:34 GMT 05:34 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سندھ آثار قدیمہ صوبائی حکومت کے حوالے
 

 
 
وفاقی حکومت نے آثار قدیمہ کا کنٹرول صوبائی حکومت کو دے دیا
حکومت پاکستان نے موئن جودڑو کے سوا صوبہ سندھ کے تمام آثار قدیمہ صوبہ سندھ کے کنٹرول میں دے دیئے ہیں۔ حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ یہ قدم وفاقی حکومت کے صوبائی خودمختاری کے منصوبے کا حصہ ہے۔

موئن جو دڑو دنیا کی چار قدیم ترین تہذیبوں میں شامل ہے جو پانچ ہزار سال پرانی ہے جبکہ دنیا کا سب سے بڑا مکلی کا قبرستان اور دنیا کا سب سے بڑا قلعہ رنی کوٹ بھی سندھ میں واقع ہے۔

صوبے کا یہ پرانا مطالبہ تھا کہ اس کے آثار قدیمہ مرکز کے بجائے اسکے کنٹرول میں دیئے جائیں۔

حکومت سندھ کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے کے 129 آثار قدیمہ صوبائی حکومت کے کنٹرول میں دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے جو ماضی میں آثار قدیمہ اور عجائب گھروں کے متعلق وفاقی محکمے کے کنٹرول میں تھے۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے آثار قدیمہ کے لئے سالانہ دس لاکھ روپے سے بھی کم بجٹ رکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے ان تاریخی مقامات کو محفوظ بنانے اور ان کی دیکھ بھال کے کام میں مشکلات پیش آتی تھیں لیکن اب صوبائی حکومت اس سلسلے میں زیادہ رقم خرچ کرے گی۔

ان کے مطابق یہ آثار قدیمہ صوبائی محکمہ ثقافت کے زیر انتظام ہوں گے جبکہ صوبائی حکومت کا ایک نیا محکمہ اینٹی کویٹیز ڈپارٹمینٹ یعنی محکمہ آثار ان مقامات کو بہتر حالت میں لانے اور محفوظ بنانے کا کام کرے گا۔

ڈاکٹر اسمی ابراہیم آثار قدیمہ کی ماہر ہیں۔ وفاقی محکمہ آثار سے بائیس سالوں تک وابستہ رہ چکی ہیں اور ان دنوں سٹیٹ بینک آف پاکستان میں کرنسی میوزیم کے منصوبے کی نگراں بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے صوبے کی آرکیالوجیکل سائٹس یعنی آثار قدیمہ کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ صوبے میں نہ تو مطلوبہ تعداد میں پیشہ ور ماہرین آثار ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ اور انفرااسٹرکچر یا سہولتیں دستیاب ہیں جو ان کے بقول دراصل مرکز کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

’ سندھ کے اندر زیادہ ماہرین اس لئے پیدا نہ ہوسکے کیونکہ وفاقی محکمہ آثار میں سندھ کا کوٹہ صرف ایک فیصد ہے اس لیے سندھ کے لوگ اس شعبے میں آئے ہی نہیں جبکہ پنجاب کا کوٹہ ساٹھ فیصد ہے تو سارے آفیسر پنجاب سے آتے رہے۔‘

ڈاکٹر اسمی کا کہنا ہے کہ وفاقی محکمہ آثار قدیمہ میں اس وقت سندھ کا ایسا کوئی ماہر نہیں ہے جو نئے افراد کی تربیت کرسکے اور نہ ہی حکومت سندھ کے پاس ایسا ماہر موجود ہے جس کے پاس اس پیشے میں کم از کم پانچ سال کا بھی تجربہ ہو۔

’آپ کے پاس فنڈ بھی ہوگا تو آپ کیا کریں گے وہاں (آثار قدیمہ پر) جاکر سیمنٹ لگا دیں گے یا پلاسٹر آف پیرس لگا دیں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ مرکز کی اسی پالیسی کے نتیجے میں صوبے میں ماسوائے خیرپور یونیورسٹی کے، کسی اور یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کا تعلیمی شعبہ ہی قائم نہیں ہوا جس کی وجہ سے اس شعبے میں اعلی تعلیم کا رحجان فروغ نہیں پاسکا اور خیرپور یونیورسٹی میں بھی اس شعبے میں پچھلے سال صرف ایک ہی طالبعلم نے داخلہ لیا تھا۔

کراچی یونیورسٹی سے وابستہ ایک اور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جاوید حسین البتہ ڈاکٹر اسمی ابراہیم سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے، اس میں یہ ہے کہ مقامی سطح پر صوبائی اور مقامی حکومتیں اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لئے فعال کردار ادا کریں گ اور جہاں تک مہارت کی کمی کا تعلق ہے تو وہ وفاقی محکمہ آثار قدیمہ کے ڈھانچے سے حاصل کی جاسکتی ہیں جب تک کہ صوبائی حکومت اپنی مہارت اور سہولتیں پیدا نہ کرلے۔‘

صوبائی وزیر ثقافت سسئی پلیجو کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے صوبے کو اسکا حق ملا ہے اور اس سے صوبے کے تاریخی مقامات کے تحفظ اور بحالی کے کام میں بہتری آئے گی۔

’اتنا عرصہ وفاقی حکومت کے پاس یہ محکمہ رہا ہے لیکن حالت یہ ہے کہ پاکستان میں ایک بھی بہتر لیبارٹری نہیں بن سکی جس میں آثار قدیمہ پر تحقیق ہوسکے پھر سندھ کے تاریخی مقامات کی بہتری کے لئے بھی کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ صوبے کے لئے جو فنڈز مقرر ہے وہ تو موئن جو دڑو کی ایک دیوار کی دیکھ بھال کے لئے بھی کافی نہیں۔‘

سسی پلیجو کے مطابق وفاقی محکمے میں سندھ اور بلوچستان دونوں صوبوں کے لئے ایک ہی ڈائریکٹر جنرل مقرر تھا جس کی وجہ سے خاص کر سندھ میں آثار قدیمہ پر صحیح طور پر کام نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تربیت یافتہ عملے کی کمی کو پورا کرنے کی غرض سے وفاقی محکمہ آثار کے عملے کی خدمات حاصل کرے گی اور مطلوبہ سہولتیں پیدا کرنے کے لئے بتدریج اقدامات کئے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ پہلے مرحلے میں صوبے کے آثار قدیمہ کا سروے کرائے گی اور ان تمام قدیم مقامات کو بھی محفوظ آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کرے گی جنہیں اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے تاکہ انہیں بھی محفوظ بنایا جاسکے۔

 
 
اسی بارے میں
پشاور مال خانہ بچانے کی کوشش
12 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد