BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 09 March, 2009, 16:41 GMT 21:41 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
تحریک کے دو سال، عدالتوں کا بائیکاٹ
 

 
 
وکلا
پاکستان میں وکلا کی تحریک کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں
پاکستان میں معزول ججوں کی بحالی کے لیے جاری وکلا کی تحریک کے دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ وکیلوں نے نو مارچ کے دن کو ’بلیک فلیگ ڈے‘ کے طور پر منایا۔

وکلا معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور بار ایسوسی ایشنوں کے خصوصی اجلاسوں کا اہتمام کیا گیا۔

نومارچ کو آج سے ٹھیک دو برس پہلے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو چیف جسٹس پاکستان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

اس اقدام کے خلاف وکیلوں نے ایک ملک گیر تحریک شروع کر رکھی ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے افراد میں اس میں حصہ لے رہے ہیں۔

نومارچ کی نسبت سے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشن کی عمارتوں پر پیر کے روز سیاہ پرچیم لہرائے گئےاور وکیلوں نے اپنے بازؤں پر کالی پٹیاں باندھیں۔

لاہور سمیت پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کی۔

لاہور میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ضلعی بار ایسوسی ایشن کے الگ الگ اجلاس ہوئے جس میں وکلا رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے معزول ججوں کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔

ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن نے ایک پریس کانفرنس میں نو مارچ کے دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ اور بھیانک دن قرار دیا۔

لاہور کی طرح کراچی میں بھی وکیلوں نے ماتحت اور اعلٰی عدلیہ کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی نے بار کے اجلاس سے خطاب کیا اور بتایا کہ بارہ مارچ کو وکیل مزار قائد پہنچیں گے جہاں سے ایک جلوس کی شکل میں لانگ مارچ کے لیے روانہ ہوں گے۔

پشاور میں بھی وکیل پیر کو عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلوس نکالا اور شیر شاہ سوری روڈ کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ بار کا اجلاس ہوا جس میں معزول ججوں کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

کوئٹہ میں وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے احتجاج میں حصہ لیا اور بار رومز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔

 
 
خواتین قیدی
پاکستان میں کئی غیر ملکی خواتین بھی قید
 
 
معزولی درست تھی
چیف جسٹس کی معزولی درست فیصلہ، مشرف
 
 
اسی بارے میں
اسلام آباد: نیا چیف جسٹس
09 March, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد