BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 March, 2009, 10:19 GMT 15:19 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
باجوڑ: قبائل اور حکومت میں معاہدہ
 

 
 
باجوڑ
جرگے میں تینوں قبیلوں کے چھ سو سے زائد عمائدین اور دینی علماء نے شرکت کی
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں تین بڑے قبیلوں نے حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس میں انہوں طالبان کے ہتھیار ڈالنے اور ان کےمبینہ تربیتی مراکز کو تباہ کرنے کی ضمانت دی ہے۔

اس سے قبل حکومت نے طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے ماموند قبیلے کے ساتھ اسی قسم کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت طالبان کی تمام عسکری تنظیمیں توڑ دی جائیں گی۔

اطلاعات کے مطابق یہ اٹھائیس نکاتی معاہدے پر سالارزئی، خار اور اتمانخیل قبیلے کی جانب سے قبائلی عمائدین اور حکومت کی جانب سے پولیٹیکل ایجنٹ شفیراللہ خان، اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ اقبال خٹک نے دستخط کیے۔

سالارزئی قبیلے کے ملِک فضل کریم نے بی بی سی کو بتایا کہ سول کالونی خار میں ہونے والے اس جرگے میں تینوں قبیلوں کے چھ سو سے زائد عمائدین اور دینی علماء نے شرکت کی۔ ان کے بقول معاہدے میں حکومت کو ضمانت دی گئی کہ مذکورہ قبیلے کے علاقوں میں طالبان ہتھیار پھینکیں گے اور ان کے مبینہ مراکز کو تباہ کر دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی علاقے میں حکومتی عملداری کی بحالی یقینی بنائے گی۔ ان کے مطابق معاہدے میں یہ ضمانت بھی دی گئی ہے کہ ان کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور لیویز اہلکار آزادانہ طور پر نقل و حرکت کرسکیں گے جبکہ حکومتی املاک کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور اگر ایسا کیا گیا تو اجتماعی ذمہ داری کے تحت قبیلہ ذمہ دارہوگا۔

 معاہدے میں یہ ضمانت بھی دی گئی ہے کہ ان کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور لیویز اہلکار آزادانہ طور پر نقل و حرکت کرسکیں گے جبکہ حکومتی املاک کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور اگر ایسا کیا گیا تو اجتماعی ذمہ داری کے تحت قبیلہ ذمہ دارہوگا۔
 
دو دن قبل حکومت اور طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے ماموند قبائل کے درمیان معاہدے کے اسی مسودے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس معاہدے کے بعد طالبان سربراہ مولوی فقیر نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ فوری طورپر تمام سرگرمیاں معطل کر دیں اور معاہدے کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔

ماموند قبیلے سے معاہدے کے بعد حکومت نے صدر مقام خار اور ماموند کے درمیان چھ ماہ قبل بند ہونے والی سڑک کو کھول دیا ہے۔ جبکہ حکومت نے ناوگئی اور خار سڑک کو بھی جلد کھولنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

باجوڑ میں طالبان کے خلاف کارروائی کے دوران تین لاکھ سے زائد لوگوں نے نقل مکانی کی تھی جن میں ہزاروں اب بھی صوبہ سرحد کے تقریبا ایک درجن عارضی کیمپوں میں رہائش پزیر ہیں۔

معاہدے کے بعد بعض گھرانے واپس گئے ہیں جبکہ سالارزئی قبیلے کے ملک فضل کریم کے بقول حکومت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ جن لوگوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا ہے ان کے لیے باجوڑ میں چار مقامات پر خیمہ بستیاں بسائی جائیں گے۔

ان کے مطابق ان خیمہ بستیوں میں ان افراد کو چار ماہ تک تعلیم اور صحت کی سہولیات کے علاوہ روزانہ خورد و نوش کی اشیاء فراہم کی جائیں گی۔

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے پچھلے سال چھ اگست کو طالبان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی اور چند دن قبل ایف سی کے سربراہ میجر جنرل طارق نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نےعلاقے سے طالبان کا صفایا کرلیا ہے۔

تاہم ایک با اعتماد حکومتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حکومتی دعویٰ سے تقریباً ایک ہفتے قبل ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار اور پولیٹیکل ایجنٹ باجوڑ نے ماموند کے علاقے میں طالبان سربراہ مولوی فقیر سے بالمشافہ ملاقات کی تھی جس کے دوران ان کے درمیان کچھ خفیہ معاملات طے پائے گئے تھے۔

 
 
اسی بارے میں
باجوڑ میں بھی امن معاہدہ
09 March, 2009 | پاکستان
حکومت عارضی جنگ بندی پر تیار
24 February, 2009 | پاکستان
باجوڑ: طالبان کی جنگ بندی
23 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد