BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 March, 2009, 12:05 GMT 17:05 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
پنجاب کریک ڈاؤن، تین سو سے زائد گرفتار
 

 
 
ملتان میں گرفتاریاں
بدھ کے روز ملتان میں مظاہرہ ہوا اور گرفتاریاں پیش آئیں

پنجاب کے سیکرٹری داخلہ راؤ افتخار نے کہا کہ صوبے بھر میں ساڑھے تین سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

دوسری طرف اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کو ان کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی میں پولیس نے مزار قائد کے قریب جماعت اسلامی کو استقبالیہ کیمپ لگانے نہیں دیا اور اس موقعے پر موجود سابق رکن اسمبلی نصراللہ شجیح اور حافظ نعیم الرحمان سمیت پانچ سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے بڑی تعداد میں وکلاء اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس پر مجبور بغاوت اور معاملات کو سڑکوں پر حل کرنے کی دھمکیوں نے کیا۔

لاہور میں سیکرٹری داخلہ راؤ افتخار نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں کوئی رکن پارلیمان یا کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ان عناصر کو گرفتار کیا گیا ہے جو عوام کی زندگی میں خلل ڈالنے کا سبب بن سکتے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مزید گرفتاریاں عمل میں آسکتی ہیں۔ راؤ افتخار نے ایک روز پہلے ہی سیکرٹری داخلہ کا عہدہ سنبھالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کو بدھ کو گوجرانوالہ کا جلسہ عام کرنے کی اجازت ہے لیکن ا س کے بعد اس ضلع میں بھی دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ ہوجائے گا جس کے بعد پورے صوبے میں لانگ مارچ اور دھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے شہریوں کو کہا کہ وہ اپنی جان و مال کی تحفظ کے لیے ان میں شرکت نہ کریں۔ سیکرٹری داخلہ نے تصدیق کی کہ صوبے میں ایک ماہ کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں پرامن جلسے جلوس اور ریلیاں کرنے دی گئیں اور لوگوں کو اپنے جذبات کا اظہار اور عوام میں اپنے رائے بنانے کی مکمل اجازت دی گئی کیونکہ یہ ایک جمہوری طریقہ ہے۔

 مسلم لیگ(ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کو ان کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال اور مرکزی نائب صدر غلام دستگیر خان کی نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں توڑ پھوڑ کی سیاست کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے لیے رینجرز سے رابطہ کیا ہے اور چند اضلاع میں ان کی تعیناتی کے لیے لکھا گیا ہے۔

ادھر لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر شاہد صدیقی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وکلاء ہر قیمت پر لانگ مارچ کریں گے اور پروگرام کے مطابق شاہراہ دستور پر دھرنا دیا جائے گا۔

اس سے قبل پنجاب حکومت کی جانب سے منگل کی شام صوبہ میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاد کے بعد سیاسی کارکنوں اور وکلاء رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ پر بات کرتے ہوئے لاہورکے ضلعی رابط افسر سجاد بھٹہ نے کہا ہے کہ دفعہ ایک سو چوالیس کم از کم تین روز تک نافذ العمل رہے گی اور اس دوران پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کے ایک جگہ اکھٹے ہونے، جلسے کرنے یا جلوس نکالنے پر پابندی عائد ہوگی۔

مسلم لیگ نون کے رہنما اورسابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے دو سو سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

لاہور کے مختلف علاقوں سے پولیس نے مسلم لیگ نون کے پوسٹر اور بینر بھی اتار دیے ہیں۔

اسلام آباد سے ہارون رشید نے بتایا کہ شیری رحمان نے پارلیمان کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان گرفتاریوں کو افسوس ناک قرار دیا تاہم کہا کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیئے ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

’ہماری جمہوری حکومت گورنر راج یا دفعہ ایک سو چوالیس جیسے حربے استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن اس سے زیادہ افسوس ناک وہ عمل ہے جس کے ذریعے ملک کو بحران کی جانب لیجایا جا رہا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیئے جائیں۔ انہوں نے ان کی حکومت کو سابق جنرل پرویز مشرف کی حکومت سے موازنہ کرنے کو غلط قرار دیا۔

 ہماری جمہوری حکومت گورنر راج یا دفعہ ایک سو چوالیس جیسے حربے استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن اس سے زیادہ افسوس ناک وہ عمل ہے جس کے ذریعے ملک کو بحران کی جانب لیجایا جا رہا تھا۔
 
شیری رحمٰن

اس سے قبل ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے اسلام آباد سے بتایا کہ مسلم لیگ(ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کو ان کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال اور مرکزی نائب صدر غلام دستگیر خان کی نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے راجہ ظفرالحق کی نظر بندی کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کے گھروں میں نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کو خدشۂ نقص امن کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں دو سے چار ہفتے تک زیرِ حراست رکھا جا سکتا ہے۔

وزارت داخلہ نے اسلام آباد کے چیف کمشنر کامران لاشاری کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ وہ وکلاء کے نمائندوں کے ساتھ بدھ کو مذاکرات کریں اور اُنہیں دھرنے کی جگہ تبدیل کرنے کے آمادہ کریں۔

ذرائع کے مطابق ریجنل پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جہلم، چکوال اور اٹک سے اسلام آباد کی طرف آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دیں۔ اس کے علاوہ ان راستوں میں آنے والے تمام پلوں پر کنٹینرز کھڑے کر دیے جائیں۔

 ریجنل پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جہلم، چکوال اور اٹک سے اسلام آباد کی طرف آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دیں۔ اس کے علاوہ ان راستوں میں آنے والے تمام پلوں پر کنٹینرز کھڑے کر دیے جائیں۔
 
ادھر لانگ مارچ سے قبل پنجاب میں پولیس اور دیگر انتظامی افسروں کے تبادلے مسلسل جاری ہیں اور ان افسروں کوہٹایا جا رہا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ شریف بردران کی حمایت کریں گے۔

لاہور میں سیکرٹری داخلہ کے تبادلے کے بعد پنجاب کے آٹھ میں سے تین ڈویژنل کمشنروں کو تبدیل کردیا گیا ہے جن میں فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور راولپنڈی کے کمشنر شامل ہیں۔

کراچی سے ریاض سہیل نے بتایا کہ کراچی میں وکلا مارچ کی ابتدا سے ایک روز قبل سندھ حکومت نے دفعہ 144 کا نفاذ کر کے جلسے، جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

سندھ حکومت نے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی میں بھی ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

وکلا کا کہنا ہے کہ وہ جمعرات کو ضرور احتجاج کریں گے اگر لانگ مارچ میں شریک نہ ہوسکے تو علامتی مارچ کیا جائے گا۔ مسلم لیگ نون اور جماعت اسلامی کا دعویٰ ہے کہ ان کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس دفعہ 144کے حکم پر عمل درآمد کرانے کی پابند ہے۔ اگر کسی نے بھی اس کی خلاف ورزی کی تو کارروائی کی جائے گی۔

ان کے مطابق تاہم ابھی تک نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے نہ ہی کسی کی نظربندی کے احکامات جاری کیئے گئے ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ پولیس کو یہ مصدقہ اطلاعات ہے کہ اس احتجاج کے دوران تخریب کاری کا امکان ہے شرپسند عناصر کوشش کر رہے ہیں کہ اس موقعے کا فائدہ لیکر حکومت کے لیئے مسئلہ پیدا کریں۔

 پولیس کو یہ مصدقہ اطلاعات ہے کہ اس احتجاج کے دوران تخریب کاری کا امکان ہے شرپسند عناصر کوشش کر رہے ہیں کہ اس موقعے کا فائدہ لیکر حکومت کے لیئے مسئلہ پیدا کریں۔
 
کراچی پولیس سربراہ

ان کے مطابق یہ ایسی ہی اطلاعات ہیں جیسے سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے وقت لاہور پولیس کو ملی تھی۔ ان کے مطابق پولیس کو یہاں تک متنبہ کیا گیا ہے کہ ممبئی کی طرز کی کارروائی کا امکان ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد پولیس کی رکیوزیشن پر سندھ پولیس کے پانچ سو کے قریب اہلکار روانہ کیئے گئے ہیں۔ یہ اہلکار لاٹھیوں سے لیس ہیں جو پاکستان ایکسپریس اور تیز رو کے ذریعے روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ اسلام آباد میں سات روز قیام کریں گے۔

وکلا رہنما منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ اندیشہ ہے کہ گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔ اس صورت میں متبادل منصوبہ بندی کی ہے جس کے تحت تمام لوگوں کو اپیل کی جائے گی کہ وہ مزار قائد پر جمع ہوں گے دفعہ 144 بنیادی انسانی حقوق کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔

ادھر سندھ ہائی کورٹ کے داخلی راستوں پر اضافی پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات کردی گئی ہے۔ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کنٹینر لگا کر راستے بند کردیتی ہے اور بسوں کو تحویل میں لے لیا جاتا ہے تو بھی احتجاج ضرور کیا جائے گا اور علامتی مارچ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور رحمان ملک کہتے رہے ہیں کہ وکلا کو پرامن احتجاج کا پورا حق ہے تو پھر کیوں روکا جارہا ہے۔

 
 
شاہد صدیقی اور اعتزاز احسن وکلاء کا ترانہ
’ایک طرف ہےجنتا ساری ایک طرف چندگھرانے‘
 
 
وکلاء کی گروپ بندی
اعتزاز احسن اور حامد خان کے اختلافات
 
 
اسی بارے میں
مصالحت کی کوششیں جاری
05 March, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد