’ہمیں نہ انڈیا چاہیے، نہ ہی پاکستان‘

Image caption یہاں ہر صبح کی طرح بوٹ مارکٹ لگ رہی ہے، کشتیاں تازہ سبزیوں سے لدی ہوئی ہیں، جو کسان خود اپنے کھیتوں سے لائے ہیں

ڈل لیک کے دلفریب لیکن خاموش پانیوں کے ایک چھوٹے سے گوشے میں سورج کی پہلی کرنوں کےساتھ ہی زندگی جاگ جاتی ہے۔

باقی کشمیر میں کبھی کرفیو تو کبھی ہڑتال کی وجہ سے بھلے ہی ویرانی ہو لیکن یہاں نہیں۔

یہاں ہر صبح کی طرح بوٹ مارکٹ لگ رہی ہے، کشتیاں تازہ سبزیوں سے لدی ہوئی ہیں، جو کسان خود اپنے کھیتوں سے لائے ہیں۔

ایک ڈیڑھ گھنٹے کی سودے بازی کے بعد خرید و فروخت کا سلسلہ تو نمٹ جاتا ہے لیکن ایک بحث ہے جو ختم ہونے کانام نہیں لیتی۔

تقریباً تین مہینے سے جاری بحران کیسے ختم ہوگا اور کشمیر کا انجام کیا ہوگا؟

سبزی بیچنے والوں میں جاوید بھی شامل ہیں جن کی عمر تقریباً 25 سال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن یہ مسئلہ اب حل ہونا چاہیے اور 'حکومت کو یہ پوچھنا چاہیے کہ لوگ آزادی کیوں چاہتے ہیں ، ان کے مسائل کیا ہیں، ہمارے اوپر ظلم ہوتا ہے، ہمیں دہشت گرد کہا جاتا ہے، کبھی گرفتار کر لیا جاتا ہے۔'

Image caption ایک ڈیڑھ گھنٹے کی سودے بازی کے بعد خرید و فروخت کا سلسلہ تو نمٹ جاتا ہے لیکن ایک بحث ہے جو ختم ہونے کانام نہیں لیتی

غلام محمد کی عمر تقریباً 60 سال ہے۔ ان کی کشتی بھی اچھے دن دیکھ چکی ہے اور زندگی بھی۔ آج کے لیے ان کی سبزیاں بک چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں '30 سال سے ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہمارے ساتھ ہمشیہ دھوکہ ہوا ہے، وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے طرح طرح کے خواب دکھائے تھے، پھر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنا لی، انھوں نے بھی باقی سیاست دانوں کی طرح دھوکہ دیا، یہ لوگ صرف اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔'

انڈیا کے زیرِ اہتمام کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے شورش کاسلسلہ جاری ہے، تشدد کا زور کچھ کم ہوا ہے اور کرفیو ہٹا لیا گیا ہے لیکن علیحدگی پسند حریت کانفرنس کی اپیل پر ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سڑکیں ویران ہیں اور دکانیں بند۔

غلام محمد کے ساتھی مہی الدین اپنے بیٹے کے ساتھ منڈی میں آئے ہیں۔' میں بچہ تھا تب سے کشمیر کے بارے سن رہا ہوں، میرا بیٹا اب جوان ہوگیا ہے، ہمیں نہ انڈیا چاہیے اور نہ ہی پاکستان، ہمیں فٹبال کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے لیکن اب اس مسئلے کا مستقل حل نکلنا چاہیے، دونوں ملک ایک دوسرے کو اڑانے کی دھمکی دیتے ہیں لیکن یہ دونوں اڑ جائیں گے اور ہم تو پہلے ہی سے اڑ چکے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ وقفے وقفے سے شورش بھڑکتی ہے۔' اس مرتبہ حالات ٹھنڈے ہو بھی گئے تو پھر بھڑکیں گے، یہاں ہڑتال کے کیلنڈر کے حساب سے دکانیں کھلتی اور بند ہوتی ہیں، حکومت کو حریت سے بات کرنی چاہیے کیونکہ مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہوگا، جنگ سے نہیں۔'

جاوید بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔'جنگ سے کیا ہوگا، جنگ سے کون سا مسئلہ حل ہوتا ہے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لوگ کھل کر اعتراف نہیں کرتے لیکن تین مہینے سے جاری شورش کا اثر ان کی زندگی پر صاف نظر آتا ہے

ان لوگوں میں انڈیا کی بے پناہ فوجی قوت کا اعتراف بھی ہے، علیحدگی پسند تحریک سے وفاداری بھی اور اپنے الگ راستے جانے کی خواہش بھی۔

لیکن بہت سے لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ بات چیت شروع ہو 'تو کوئی بیچ کا راستہ بھی نکل سکتا ہے۔'

لوگ کھل کر اعتراف نہیں کرتے لیکن تین مہینے سے جاری شورش کا اثر ان کی زندگی پر صاف نظر آتا ہے۔

ہاؤس بوٹ اور ہوٹل خالی پڑے ہیں، ٹیکسیوں کو مسافروں کا انتظار ہے اور اب سردی آ رہی ہے۔

نئی دلی سےسری نگر کا ہوائی ٹکٹ اگر ستمبر میں 2500 روپے میں مل رہا ہو تو سب ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

کشمیر میں صرف موسم بدل رہا ہے، نظریات نہیں۔ ہوا میں خنکی ہے، لیکن فی الحال یہاں صرف خزاں ہے، بہار نہیں۔

متعلقہ عنوانات