افغانستان کے لیے امداد اکٹھی کرنے کی غرض سے برسلز میں اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2012 میں ٹوکیو میں ہونے والی کانفرنس میں چار ارب ڈالر جمع کیے گئے تھے

افغانستان کے لیے اربوں ڈالر کی امداد اکھٹی کرنے کی غرض سے بین الاقوامی امدادی اداروں کا برسلز میں ایک اجلاس ہو رہا ہے۔

یورپی یونین کی میزبانی میں ہونے والی اس ملاقات میں ستر سے زائد ممالک حصہ لے رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سنہ 2020 تک تین ارب ڈالر سالانہ اکٹھے کیے جائیں گے۔

اس اجلاس میں افغانستان سے کہا جائے گا کہ وہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے اور اپنے ان لاکھوں باشندوں کو واپس لے کر جائے جنہوں نے دوسرے ملکوں میں پناہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی۔

عسکریت پسندوں کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کے 15 سال بعد بھی افغاسنتان کا غیر ملکی امداد پر انحصار ہے اور وہاں ایک بار پھر بغاوت سر اٹھا رہی ہے۔

یورپی یونین کے خصوصی نمائندہ فرانز مائیکل کا کہنا تھا ’ہم افغانستان کے لیے مزید چار سال کی امداد طلب کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شام کے بعد یورپ جانے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کا تعلق افغانستان سے ہے

اس مرتبہ بھی حکام کو گذشتہ امدادی کانفرنس سے زیادہ کی امداد اکٹھے ہونے کی توقع نہیں ہے۔ سنہ 2012 میں ٹوکیو میں ہونے والی کانفرنس میں چار ارب ڈالر جمع کیے گئے تھے۔

یوپی یونین کا وعدہ ہے کہ وہ اب 30 ارب ڈالر سالانہ امداد دے گا اور اس نے افغان حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ وہ اس رقم کے بدلے اپنے ان باشندوں کو واپس لے گا جو پناہ کی تلاش میں یورپ جا رہے ہیں۔ تاہم فریقین نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ معاہدہ کسی نئی امداد کی شرط پر کیا گیا ہے۔

شام کے بعد یورپ جانے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کا تعلق افغانستان سے ہے۔

باوجود طالبان کی جانب سے قندوز ارو لشکر گاہ میں کیے جانے والے حالیہ حملوں نے یہ سوال پیدا کیے ہیں کہ حالیہ برسوں میں تمام تر امدادی رقوم کے خرچ کیے جانے کے باوجود سکیورٹی اور ترقی کی صورتحال کتنی خراب ہے۔

اسی بارے میں