سری نگر کا خاموش کیفے

سرینگر میں دریائے جہلم کے کنارے ویران پڑے ہیں، کچھ باقی شہر کی طرح۔

یہاں کبھی سیاحوں کا تانتا لگا رہتا تھا، لیکن اب چاروں طرف خاموشی ہے، ہینڈی کرافٹس کی شاندار دکانوں میں بھی، اور اس کیفے میں بھی جو کبھی دانشوروں، صحافیوں اور مصوروں کی آماج گاہ ہوا کرتا تھا۔

'اس کیفیت کو اب تین مہینے ہوگئے ہیں' اس کیفے کے نوجوان مالک مجتبیٰ رضوی نے مجھے بتایا: 'میں خود ایک مصور ہوں ۔۔۔ انگلینڈ سے پڑھ کر جب میں آخرکار سرینگر لوٹا تو میں نے دیکھا کہ شہر میں کئی شاندار کیفے کھل رہے ہیں، لیکن میں ان سے کچھ الگ کرنا چاہتا تھا، تو میرے ذہن میں ایک ایسا کیفے کھولنے کا خیال آیا جہاں لوگ صرف کھانے پینے اور وقت گزارنے کے لیے نہ آئیں۔'

مجتبیٰ رضوی کے کیفے کی دیواریں فن پاروں سے مزین ہیں۔ کجھ ان کی اپنی تخلیق ہیں، کچھ ان کے ہم خیال ساتھیوں کی۔ یہاں چھوٹے چھوٹے مشاعرے بھی منعقد ہوتے ہیں، اور بحث مباحثے بھی، 'ہم اسے دانشوروں اور فنکاروں کی ایک آماج گاہ بنانا چاہتے تھے اور اس کوشش میں ہمیں بڑی حد تک کامیابی بھی ملی، لیکن پھر شورش کی تازہ لہر شروع ہوگئی اور اب ہم تین مہینوں سے خالی بیٹھے ہیں۔'

لیکن مجتبیٰ رضوی کو مالی نقصان کا انتا افسوس نہیں، انھیں اس بات کی فکر زیادہ ہے کہ اس کیفے میں جو ادبی اور دانشورانہ گفتگو ہوتی تھی، وہ خاموش ہوگئی ہے۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال اور ہڑتالوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ حالات شاید دو تین مہینوں میں پھر ٹھیک ہو جائیں گے، لیکن مسئلے کے مستقل حل کی ضرورت ہے۔

اس دوران انھوں نےکشمیر کے موجودہ حالات پر ایک آن لائن نمائش کا بھی اہتمام کیا ہے جس میں لوگ دنیا کے مختلف حصوں سے اپنی تصاویر اور تخلیقات بھیج رہے ہیں۔

کشمیر میں شورش کا سلسلہ جولائی میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا اور تب سے وہاں عام زندگی مفلوج ہے۔ وادی میں 80 سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

تو یہ حالات کب تک اسی طرح چلیں گے اور آگے کیا ہوگا؟

ان کے مطابق موجودہ تحریک کے بھی کچھ مسائل ہیں، اس کی کوئی واضح سمت نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'چاہتے تو سب لوگ یہ ہی ہیں کہ امن ہو لیکن جب تک لوگوں کو عزت و وقار کی زندگی نہیں ملے گی، وہ مزاحمت کرتے رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ B

'ذاتی طور پر میں چاہوں گا کہ کاروبار دوبارہ سے شروع ہو جائے، میں نے اس کام میں کافی پیسہ اور وقت لگایا ہے، لیکن ایک وسیع تر تناظر بھی ہے اور وہ یہ کہ کشمیر کے حالات کچھ دنوں کے بعد ٹھیک ہو جائیں گے لیکن پھر آگے کیا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں