سرینگر میں کشمیری بچے کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں اضافہ

کشمیر کشیدگي تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں پولیس کے ساتھ تصادم کا یہ منظر عام ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں پولیس کے ہاتھوں ایک 13 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

شہر کے بہت سے مقامات پر کرفیو نافذ کر دیا گيا ہے جبکہ ہلاکت کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

13 سالہ بچہ جنید محمد جمعے کے روز مظاہرے کے دوران زخمی ہو گیا تھا جو سنیچر کی صبح زخموں کی تاب نہ لا سکا۔

بچے کے والدین کا دعویٰ ہے کہ جنید ابھی محض 11 سال کا تھا۔

اس بچے کے ہلاکت کے بعد تازہ کشیدگی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 90 سے تجاوز کر گئی ہے۔

دوسری جانب کشمیر کے شمالی ضلعے پونچھ کے کے جی سیکٹر میں ایل او سی پر فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

انڈین حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے صبح پانچ بجے 'بلا اشتعال فائرنگ' شروع ہوئی جس میں ایک فوجی اہلکار زخمی ہو گيا ہے۔

ایک دوسرے واقعے میں جمعے کی رات کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں میں شدت پسند حملے میں تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں تقریبا تین ماہ سے کشیدگي کی لہر میں ہزاروں افراد زخمی ہو گئے ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے گاؤں جام نگري میں کشمیری پنڈتوں کی حفاظت کے لیے قائم کیے جانے والے گارڈ پوسٹ پر حملہ کیا۔

یہ حملہ دیر رات تقریبا دس اور سوا دس کے درمیان کیا گیا۔ حملہ کرنے کے بعد شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کے مطابق زخمیوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک کشمیری پنڈت شامل ہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

خیال رہے کہ تشدد کی تازہ لہر حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی آٹھ جولائی کو پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شرو‏ع ہوئی جس میں اب تک 90 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ہزاروں دیگر افراد زخمی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے بھی ہزاروں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں