بنگلہ دیش میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 11 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بنگلہ دیش کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم 11 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسد الزمان خان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تنظیم جماعت المجاہدین سے تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں کالعدم تنظیم کے ڈھاکہ میں کمانڈر بھی شامل ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے دو جگہوں پر چھاپے مارے اور کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ انھوں نے بتایا کہ دو چھاپے ڈھاکہ کے قریب جبکہ تیسرا چھاپہ ضلع تنگیل میں مارا گیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان تین گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

بنگلہ دیش کے حکام جولائی میں کیفے میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری جماعت المجاہدین پرڈالتے ہیں۔ اس حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر غیر ملکی تھے۔

وزیر داخلہ نے بتایا 'ہم نے ان سے ہتھیار پھینکے کا کہا لیکن انھوں نے فائرنگ شروع کر دی اور گرینیڈ پھینکے جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسد الزمان نے میڈیا کو بتایا کہ ڈاکہ کمانڈر کا تنظیمی نام آکاش ہے جبکہ حکام اس کو اصل شناخت معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ ڈھاکہ کے کیفے پر مبینہ طور پر خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے حملے میں ہلاک ہونے والے 20 یرغمالی افراد میں سے بیشترغیرملکی تھے۔

شدت پسندوں نے ڈھاکہ میں ہولے آرٹیسن بیکری کیفے پر حملہ کرکے متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حملے کے 12 گھنٹے بعد فوجی دستے کیفے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

حکومتی ترجمان کے مطابق کمانڈوز کی کارروائی میں چھ شدت پسندوں کو ہلاک جب کہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ حملے کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

بنگلہ دیش کی فوج کے بریگیڈئر جنرل نائم اشرف چوہدری کے مطابق 13 یرغمالیوں کو رہا کروایا گیا۔ رہا ہونے والوں میں ایک جاپانی اور سری لنکا کے دو شہری شامل تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں