کشمیر: ’انڈین فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ میں ایک اہلکار زخمی‘

کشمیر حملہ
Image caption گذشتہ دس روز میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فورسز پر یہ تیسرا حملہ ہوا ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مبینہ شدت پسندوں اور فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں فورسز کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق سرینگر کے قریبی علاقے پام پور میں کشمیر کو بھارت کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ پر واقع ایک سرکاری عمارت سے آگ نمودار ہوئی، جب فائر سروس کے اہلکار قریب گئے تو اندر سے فائرنگ ہوئی۔ اس کے فوراً بعد عمارت کا محاصرہ کیا گیا۔

پولیس کے مطابق عمارت میں دو سے تین مسلح حملہ آور چھپے ہیں جو وقفہ وقفہ سے فوج اور پولیس پر فائرنگ کررہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ شاہراہ پر ٹریفک معطل ہے اور گردونواح کے علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

واضح رہے اسی عمارت پر اس سال فروری میں بھی ایسا ہی حملہ ہوا تھا۔ دو روز تک جاری اُس تصادم میں ایک شہری، چار فوجی کمانڈوز اور چار شدت پسند مارے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’فوج کے سپیشل دستوں، پیراملٹری اہلکاروں اور انسدادِ دہشت گردی پولیس نے آگ کی زد میں آنے والی ایک عمارت کو گھیرے میں لیا جس کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہاں جنگجو چھپے ہوئے تھے۔‘

پیر کو حکام نے سرینگر اور دوسرے قصبوں میں پھر سے کرفیو نافذ کیا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دس روز کے دوران کشمیر میں تین حملے ہو چکے ہیں جن میں ابھی تک فوج کے مطابق ایک نیم فوجی اہلکار اور سات شدت پسند مارے گئے۔

قابل ذکر ہے کہ 29 ستمبر کو بھارت کے دعوی کیا کہ صبح ساڑھے چار بجے اس کی سپیشل فورسز نے لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستانی کنٹرول والے کشمیر میں مسلح شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا اور تقریباً 40 شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ حملہ 18 ستمبر کو شمالی کشمیر میں ایل او سی کے قریبی قصبے اُڑی میں واقع بھارتی فوج کے ٹھکانے پر ہوئے مسلح حملے جواب میں کیا گیا ۔ اس حملے میں بھارتی فوج کے 19 اہلکار مارے گئے تھے۔

سرجکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد جموں کشمیر ، پنجاب، راجھستان ، گجرات اور دوسری ریاستوں میں سرحدوں پر الرٹ جاری کیا گیا اور کئی مقامات پر سرحدی آبادی کو منتقل ہونے کے لئے کہا گیا۔ کشمیر اور جموں کے سرحدی سیکٹروں میں جنگی پیمانے پر فوج کی نقل و حمل سے بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور ہندوارہ قصبوں میں واقع فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے۔

بارہمولہ حملے کے دوران نیم فوجی اہلکار مارا گیا اور حملہ آور فرار ہوگا، تاہم ہندوارہ میں فوج کا کہنا ہے کہ طویل جھڑپ کے بعد سات شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

اس سے قبل جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں پر بھی حملے ہوئے۔

محرم کی مناسبت سے شعیہ آبادی کے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے اور کئی شعیہ رہنماوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مظاہروں کا زور توڑنے کے لئے 5000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے 500 کو سخت گیر قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت گرفتار ہونے والے شخص کی کم از کم چھہ ماہ تک عدالتی سماعت نہیں ہوسکتی۔

ادھر علیحدگی پسندوں نے 13 اکتوبر تک ہڑتال میں توسیع کردی ہے، تاہم حریت کانفرنس کی طرف سے عوامی مارچ کے پروگراموں کو ناکام بنانے کے لئے حکام اکثر علاقوں میں کرفیو نافذ کرتے ہیں۔

وادی میں تین ماہ سے زائد عرصے سے موبائل انٹرنیٹ اور پری پیڈ فون سروس پر بدستور پابندی ہے۔

انگریزی روزنامہ کشمیر ریڈر کی اشاعت کو بھی تشدد بھڑکانے کے الزام میں معطل کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں