’چین انڈیا کی این ایس جی کی رکنیت کے امکانات پر بات کرنے پر رضامند'

برکس ممالک کے سربراہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption برکس کی تازہ کانفرنس اندیا کے شہر گوا میں منعقد ہو رہی ہے

چین کے نائب وزیر خارجہ لی باؤڈونگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک انڈیا کے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی مکمل رکنیت کے امکانات پر بات چیت کرنے کا خواہاں ہے۔

انھوں نے بات گوا میں برکس کے اجلاس سے قبل کہی ہے جس میں چین کے صدر شی جن پنگ بھی شرکت کر رہے ہیں۔

انڈین خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انھوں نے کہا کہ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندی لگائے جانے کے انڈیا کے مطالبے کی مخالفت کی ہے۔

٭ این ایس جی: 'امریکہ بھارتی رکنیت کے لیے سرگرم ہے'

ان کا موقف ہے کہ 'بیجنگ انسداد دہشت گردی کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کے خلاف ہے۔'

انڈیا کے مغربی ساحلی شہر گوا میں ہونے والے پانچ ملکی سربراہی کانفرنس برکس میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

چینی نائب وزیر خارجہ نے ایک بار پھر سے 48 ممالک پر مبنی تنظیم این ایس جی کی رکنیت پر 'اتفاق رائے' پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا نے کہا ہے کہ اس نے چین کے ساتھ این ایس جی کی اپنی رکنیت کے دعوے پر 'پرمغز گفتگو' کی ہے۔

خیال رہے کہ جون میں این ایس جی کے 48 ممالک کے اجلاس میں چین نے انڈیا کی رکنیت کے دعوے کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ انڈیا نے جوہری اسلحے کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس سے قبل انڈیا میں چین کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے این ایس جی میں شامل ہونے کے لیے مہم چلا رکھی ہے تاکہ روس، امریکہ اور فرانس کی شراکت میں انڈیا اربوں ڈالر کے پاورپلانٹ قائم کر سکے اور آلودگی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس پر اس کا انحصار کم ہو۔

تاہم چین کا کہنا ہے کہ 'انڈیا کو این ایس جی کی مکمل رکنیت دینے کے لیے تمام رکن ممالک کا متفق ہونا ضروری ہے۔'

لی باؤڈونگ نے کہا: 'یہ قوانین چین نے نہیں بنائے ہیں۔ این ایس جی کے معاملے پر چین اور انڈیا کے درمیان خاطر خواہ بات چیت ہوئی ہے اور (چین) انڈیا کے ساتھ مزید بات چیت کا خواہش مند ہے تاکہ اتفاق رائے بنایا جا سکے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'اس مسئلے پر انڈیا کے ساتھ چین تمام امکانات پر غور کرنا چاہتا ہے لیکن یہ این ایس جی کے چارٹر کے مطابق ہونا چاہیے اور بعض اصولوں کا ہر طرف سے احترام کیا جانا چاہیے۔'

خیال رہے کہ جوہری عدم توسیع کا معاہدہ این پی ٹی صرف اقوام متحدہ کے پانچ مستقل اراکین امریکہ، روس، چين، برطانیہ اور فرانس کو ہی جوہری اسلحے کا حامل ملک تسلیم کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں