کیا انڈیا اور پاکستان کے صحافی مل کر آزادی رائے کے لیے کام کر سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں آزادی صحافت کے حق میں متعدد بار مظاہرے ہو چکے ہیں

پاکستان کی صحافتی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے انگریزی روزنامہ ڈان کے رپورٹر سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جانے کی خبر کی مذمت نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح بالخصوص انڈیا میں جاری ہے۔

بات پاکستان کی ہو یا کہ انڈیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا ان ممالک میں اظہار رائے اور آزادی صحافت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی مذمت کرتی آئی ہیں۔

صحافی کا نام ای سی ایل میں: صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مذمت

قومی مفاد اور صحافت

پاکستان میں ایک خبر کے باعث صحافی کے ملک چھوڑنے پر پابندی کی خبریں عالمی میڈیا کی شہ سرخیاں بنیں تو انڈیا میں کشمیر ریڈر نامی پورے کے پورے اخبار پر ہی پابندی لگانے کو فریڈم آف پریس کے منافی قرار دیا گیا۔

انڈیا کے سینیئر صحافی اور دی وائر کے ایڈیٹر سدھارتھ وارادراجن سمجھتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان دونوں میں آزادی صحافت کے خلاف جس طرح کے اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ قابل مذمت ہیں اور دونوں ممالک کے صحافیوں کو حب الوطنی کے جذبات ایک طرف رکھ کر آزادی صحافت کے لیے کام کرنا ہو گا۔

'انڈین میڈیا کا ایک طبقہ سیرل المائڈا کی خبر کو لے کر شور مچا رہا ہے اور اسے صرف اور صرف پاکستان کے مسئلے کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن یہاں انڈیا میں بھی کچھ موضوعات پر بحث بند ہو چکی ہے، کچھ ایسی خبریں ہیں جن پر کام نہیں کیا جا سکتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں بھی میڈیا پر سنسر شپ میں اضافے کے خلاف احتجاج ہو چکے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک بہت بڑے چینل نے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کا انٹرویو کیا، انہوں نے انڈین حکو مت کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس پر کچھ سوالات اٹھائے، چینل نے اس کے بعد فیصلہ کیا کہ ان کا انٹرویو نہیں دکھایا جا سکتا۔'

'سرل المائڈا کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ آزادی صحافت کے خلاف ہے لیکن انڈیا میں انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو جنیوا میں کانفرنس میں جانے سے روکنا، پھر گرفتار کرنا اور اسی طری اخبار کشمیر ریڈر پر پابندی لگانا آزادی اظہار، اور انڈیا کے آئین کے تحت شہریوں کو حاصل حقوق کی خلاف ورزی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں کے حکمران یہ چاہتے ہیں کہ جو سرکاری بیانیہ اور مؤقف ہے صحافی بھی اسی کو اپنائے، اور صحافت سرکاری لائن میں ہی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ سب غیر جمہوری ہے۔

ڈان نیوز سے وابستہ سینیئر صحافی مبشر زیدی، سدھارتھ وارادراجن کی اس رائے سے متفق ہیں کہ سرکاری مؤقف سے ہٹ کر صحافت کرنا مشکل ہو چکا ہے اور میڈیا کی تنقید براشت کرنا بھی اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا میں حالات ذرا مختلف ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کا شمار آزادی رائے کے حوالے سے دنیا کے خطرناک ممالک میں ہوتا ہے

'پاکستان میں نیشنل سکیورٹی کے مسائل پر بات کرنا پہلے ممکن ہی نہیں تھا لیکن اب سیرل المائڈا کی سٹوری سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس پر اب بات ممکن ہے، اور اس خبر کے بعد جو حالات پیدا ہوئے اس پر صحافی ڈان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن دوسری طرف انڈیا میں پہلے تو میڈیا کو ان معاملات پر بات کرنے کی آزادی تھی لیکن اب کم ہو رہی ہے۔ وہاں سنسرشپ بڑھ رہی ہے'۔

ایسے حالات میں جب انڈیا اور پاکستان کے دو طرفہ تعلقات خاصی کشیدگی کا شکار ہیں کیا انڈیا اور پاکستان کے صحافی مل کر اظہار رائے کی آزادی کے لیے کام کر سکتے ہیں؟

سدھارتھ وارادراجن کے بقول پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک میں یہ آثار بہت برے ہیں اور اس لیے ضروری ہے کہ صحافی انڈیا اور پاکستان کی بجائے اور یہ سوچنے کی بجائے کہ آپ کا ملک بہتر ہے، یا میرا ملک بہتر ہے آزادی صحافت کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم بنائیں یا ایک مشترکہ بیان تو جاری کریں۔ اور اگر ایسا نہیں تو میڈیا فریڈم خطرے میں پڑ جائے گی۔

مبشر زیدی اس پر بھی سدرھاتھ سے متفق ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں تو شاید ایسے ممکن نہ ہو اور دونوں ملکوں کے صحافیوں کو بھی اب سیاست دانوں کی طرح ٹریک ٹو ہی شروع کرنا پڑے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں