کابل میں مزار پر مسلح حملے میں شیعہ برادری کے 14 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حملے کے وقت مزار پر شیعہ عزادار جمع تھے

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کے مطابق ایک مزار پر مسلح حملے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کابل میں حملے کے وقت شیعہ عزادار یوم عاشور کے لیے سخی مزار زیارت پر جمع تھے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

یہ مزار کابل کے بڑے مزاروں میں سے ایک ہے۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق حملے میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔ ترجمان صدیق صدیقی نے بتایا کہ پولیس کے خصوصی دستے نے کارروائی کرتے ہوئے ایک حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تین تھی، جب کہ عینی شاہدین کے مطابق وہ پولیس کی وردی میں تھے۔

حکومت نے یوم عاشور کے موقعے پر شدت پسندی کے ممکنہ واقعات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

دوسری جانب صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے قریب موجود طالبان جنگجوؤں کو نکالنے کے لیے مزید سینکڑوں افغان سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

مقامی اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان کو لشکر گاہ سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق لشکرگاہ میں اس وقت چند ایک دکانیں ہی کھلی ہیں اور شہری وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہلمند میں پہلے ہی سکولوں اور یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں