بادشاہ پومی پون: استحکام کی علامت

بھومی بول تصویر کے کاپی رائٹ AP

تھائی لینڈ کے بادشاہ پومی پون ادونیادچ دنیا میں طویل ترین عرصے تک حکمرانی کرنے والے بادشاہ تھے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ان کے اقتدار کے دوران متعدد بار مارشل لا نافذ کیا گیا انہیں ایک استحکام کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ایک ایسے ملک میں جہاں متعدد بار فوجی بغاوتیں ہوئیں، شاہ بھومی بول کو ملکی استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

اگرچہ ان کی کردار ایک بزرگ شخصیت کا سا رہا اور وہ سیاست سے بالاتر رہے تھے لیکن متعدد سیاسی بحرانوں کے دوران انھوں نے مداخلت کی۔

اگرچہ وہ ایک محدود اختیار والے آئینی بادشاہ تھے لیکن تھائی عوام کی نظر میں وہ روحانی اثر رکھنے والی انتہائی محترم شخصیت تھے۔

بادشاہ بھومی بول پانچ دسمبر سنہ 1927 کو امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبریج میں پیدا ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ان کی پیدائش کے وقت ان کے والد شہزادہ ماہی دول ادولیادیج امریکی یونیورسٹی ہارورڈ میں زیرِ تعلیم تھے۔

بعد میں بادشاہ بھومی بول کا خاندان وطن واپس آ گیا جہاں اس وقت ان کے والد کا انتقال ہو گیا جب ان کی عمر صرف دو برس تھی۔

والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ سوئٹزرلینڈ منتقل ہو گئیں اور نوجوان شہزادے نے وہیں تعلیم حاصل کی۔

نوجوانی میں وہ فوٹوگرافی، شاعری، موسیقی اور سیکسو فون، مصوری اور لکھنے جیسی ادبی اور تہذیبی مشاغل کے شوقین تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

1932 میں تھائی لینڈ کے بادشاہ کے اختیارات میں کمی کے بعد سے ملک میں بادشاہت زوال کا شکار تھی۔ بادشاہت کو اس وقت مزید دھچکہ لگا جب سنہ 1935 بھومی بول کے چچا بادشاہ پراجادھیپوک نے تخت سے علیحدگی اختیار کر لی۔

چچا کے بادشاہ سے دست بردار ہونے کے باعث بھومی بول کے بھائی آنندا کو نو برس کی عمر میں تخت سنبھالنا پڑا۔

علامتی سربراہ

سنہ 1946 میں بادشاہ آنندا بنکاک میں واقع اپنے محل میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

بھومی بول 18 برس کی عمر میں بادشاہ بنے اور سوئٹزرلینڈ میں تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے شروع کے چند برسوں میں بادشاہ کے فرائض ان کے بجائے کسی اور کو ادا کرنا پڑے۔

فرانس کے دورے کے دوران ان کی ملاقات اپنی مستقبل کی بیوی سیری کت سے ہوئی، جن کے والد فرانس میں تھائی لینڈ کے سفیر تھے۔

جوڑے نے بھومی بول کی جانب سے بادشاہت کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے ایک ہفتہ قبل 28 اپریل سنہ 1950 میں شادی کی۔

بادشاہت کے پہلے سات سالوں میں ملک میں فوجی حکومت رہی اور بھومی بول ایک علامتی بادشاہ تھے۔

ستمبر سنہ 1957 میں جنرل ساریت داھناراجاتا نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت شاہ بھومی بول نے ایک شاہی فرمان جاری کیا جس میں ساریت کو تخت کا فوجی محافظ قرار دیا گیا تھا۔

جنرل ساریت کے دورِ آمریت میں بھومی بول نے بادشاہت کے منصب میں دوبارہ جان ڈالنے کا عمل شروع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے ملک کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور بہت سے منصوبوں کو اپنے نام سے منسوب کیا، خصوصاً وہ جب کا تعلق زراعت کے شعبے سے تھا۔

جنرل ساریت نے بادشاہ کے سامنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلنے کی رسم کے دوبارہ اجرا کے علاوہ اور بھی بہت سی شاہی تقریبات کو بحال کیا جن کا انعقاد بند ہو چکا تھا۔

حکومت کا خاتمہ

بھومی بول نے سنہ 1973 میں ڈرامائی طور پر اس وقت ملکی سیاست میں مداخلت کی جب جمہوریت پسند مظاہرین پر فوج کی جانب سے گولی چلائی گئی۔

مظاہرین کو شاہی محل میں پناہ لینے کی اجازت دی گئی جس کے باعث اس وقت کے وزیرِاعظم جنرل تھانوم کٹیکاچورن کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

لیکن تین سال بعد بادشاہ بائیں بازو کے طلبہ کی فوج کے مسلح حمایتیوں کے ہاتھوں تشدد ہلاکت سے بچانے میں ناکام رہے۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب ویت نام کی جنگ کے بعد کیمیونسٹ نظام سے بڑھتی ہوئی ہمدردی سے بادشاہت کو خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔

اس کے بعد حکومت کو گرانے کی مزید کوششیں بھی کی گئیں۔ سنہ 1981 میں بادشاہ نے وزیرِاعظم پریم ٹنسولانوند کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے فوجی افسران کے اقدام کی کھل کر مخالفت کی۔

باغی دارالحکومت بنکاک پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن پھر بادشاہ کی وفادار افواج نے باغیوں سے بنکاک کا قبضہ چھڑوا دیا۔

تاہم بادشاہ کی جانب سے حکومت کی حمایت کرنے کے باعث بعض حلقوں کی جانب سے ان کی غیرجانبداری پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔

بھومی بول نے سنہ 1992 میں اس وقت دوبارہ مداخلت کی جب وزیرِاعظم بننے کی کوشش کرنے والے سابق باغی جنرل سو چندا کاراپرئون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر گولی چلائی گئی۔

اثر ورسوخ

بادشاہ نے سوچندا اور جمہوریت پسند رہنما چملانگ سرمونگ کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔

شاہی پروٹوکول کے تحت دونوں اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے۔

سوچندا اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے اور اس کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں ملک میں دوبارہ جمہوری حکومت قائم ہو گئی۔

سنہ 2006 میں وزیرِاعظم تھاکسن شناواترا کی حکومت میں آنے والے بحران کے دوران بادشاہ سے مداخلت کا کہا جاتا رہا لیکن ان کا موقف یہ ہی رہا کہ ایسا کرنا نامناسب ہو گا۔

تاہم ان کے اثرو رسوخ کی جھلک اس وقت بھی نظر آئی جب ان انتخابات کو عدالت نے کالعدم قرار دے دیا جن میں تھاکسن کو فتح ملی تھی۔

تھاکسن کو ایک بغاوت کے نتیجے میں حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے تھے اور باغی فوجیوں نے بادشاہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا۔

اس بعد کے سالوں میں تھاکسن کے حامی اور مخالف دھڑوں نے اقتدار کی رسہ کشی کے دوران ان کی نام اور شبیہ کا استعمال کیا۔

سنہ 2008 میں بادشاہ کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر پورے ملک میں ان کے منفرد مقام کو مدِنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں پر شاندار تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا۔

تعظیم

مئی 2014 میں جنرل پرایوتھ چن اوچا نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور کچھ ماہ بعد فوج کی جانب سے مقرر کی گئی پارلیمان نے انھیں وزیرِاعظم بنا دیا تھا۔

انھوں نے ملک میں استحکام لانے کے لیے بڑے پیمانے پر ملک میں سیاسی اصلاحات کرنے کا اعلان کیا۔

تاہم ناقدین کا خیال تھا کہ ان کا بنیادی مقصد سابق وزیرِ اعظم تھاکسن شناواترا کی جماعت کو تباہ کرنا اور بادشاہ کے جانشین کا آسانی سے انتخاب تھا۔

تھائی عوام حقیقی معنوں میں بادشاہ بھومی بول کی تعظیم کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ شاہی محل کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے کا کردار بھی اہم ہے۔

ملک میں ایسے قوانین تھے جن کے تحت بادشاہ پر تنقید کرنے والوں کو کڑی سزا دی جاتی تھی جس کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی میڈیا ان کے بارے میں صحیح طور پر کوریج نہیں کر سکتا تھا۔

اپنے طویل اقتدار کے دوران بادشاہ بھومی بول کو ملک میں لگاتار بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کی سفارتی قابلیت اور عام لوگوں میں ان کی مقبولیت اور اثر و رسوخ کے سبب ملک میں بادشاہت اب اس وقت سے زیادہ مضبوط ہے جب انھوں نے یہ منصب سنبھالا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں