کافی ہم تک کیسے پہنچی؟

کافی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کافی کے دنیا میں پھیلنے کے پس پشت بہت سی دلچسپ کہانیاں ہیں

آج کا زمانہ کافی کا زمانہ ہے۔ چھوٹے بڑے شہروں میں بے شمار کافی کی دکانیں کھل گئی ہیں۔ یہ کافی خانے بڑے جدید طرز سے بنائے گئے ہیں۔

بزرگ یہاں وقت گزاری کے لیے آتے ہیں تو جوان تفریح کے لیے۔ الغرض کافی کلچر اب ہمارے ملک کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔ کافی کے رسیا ایک پیالی کافی پر گھنٹوں گزار دیتے ہیں۔

کافی ہم تک کیسے پہنچی یہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔ کہتے ہیں کہ کالدی نامی ایک چرواہے کی بکریوں نے آس پاس لگی جھاڑیوں کے کچھ بیج کھا لیے اور دیکھتے ہی دیکھتے وجد میں آ کر کودنے لگیں۔ چرواہا بکریوں کی اس حرکت سے بڑا پریشان ہوا اور آگے بڑھ کر اس نے بھی ایک بیج چبا ڈالی اور اسی کیفیت سے دوچار ہوا۔

یہ تھا کافی کا بیج جس میں سرور انگیز کیفیات پائی جاتی ہیں۔ آج بھی جب بدن میں خون کا فشار کم ہو جاتا ہے تو کافی کی ایک پیالی خون کے فشار کو اوپر لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

15 ویں صدی میں بابا بودن نامی ایک فقیر عربستان کے ملک یمن سے کافی کے سات بیج کمر بند میں چھپا کر ہندوستان لے آئے۔ بابا بودن کا مسکن جنوبی ہند کا شہر میسور بنا۔ کچھ سرمایہ داروں نے چھوٹے پیمانے پر کافی کی زراعت کا آغاز کیا اور 1840 میں پہلی بار ہندوستان کے جنوبی علاقے کرناٹک میں کافی کی زراعت اور پیداوار بڑے پیمانے پر ہونے لگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کافی کی ایک پیالی میں بہت سے فوائد ہیں

جلد ہی جنوبی ہند کے دوسرے علاقے تمل ناڈو اور کیرالہ بھی اس کی گرفت میں آ گئے۔ 19 ویں صدی میں انگریزوں نے کافی کی زراعت کو بڑھاوا دیا اور کافی تجارت کا اعلی وسیلہ بن گئی۔ کافی جنوبی ہند کے لوگوں کا آج بھی محبوب مشروب ہے۔ ان کی صبح کافی کی پیالی سے ہوتی ہے اور شام بھی کیونکہ یہ تھکن دور کرنے کا بھی وسیلہ ہے۔

سنہ 1870 کے عشرے میں چائے کی مقبولیت نے کافی کی تجارت پر گہرا اثر ڈالا لیکن سرکاری امداد سے لوگوں نے کافی کی زراعت کو برقرار رکھا۔

سنہ 1940 میں ہندوستان میں پہلا کافی ہاؤس وجود میں آیا لیکن سنہ 1950 کی دہائی میں سرکاری پالیسی کے تحت کافی ہاؤس بند ہوگئے اور کام کرنے والے بیکار۔ لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور اے کے گوپالن کی رہبری میں کافی ہاؤس چلانے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی اس طرح ملک میں ایک بار پھر کافی ہاؤس زندہ ہو گئے۔

27 اکتوبر سنہ 1957 کوہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں پہلے کافی ہاؤس کا افتتاح ہوا اور لوگوں کے میل جول کا محبوب اڈہ بن گيا۔ یہ کافی ہاؤس آج بھی موجود ہے اور دہلی کے لوگوں کے ملنے جلنے کا مرکز ہے۔

کافی کے تعلق سے مختلف دلچسپ کہانیاں ہیں۔ سنہ 1511 میں مکہ گورنر خیر بیگ نے عربستان میں کافی کے استعمال پر روک لگانے کی جان توڑ کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کہتے ہیں کہ کافی کے سات بیج یمن سے ہندوستان لایا گيا تھا

17 ویں اور 18ویں صدی کے کافی خانے آج کے کافی خانوں سے بہت مختلف تھے۔ یورپ میں انھیں پینی یونیورسٹی کے نام سے پکارا جاتا تھا کیونکہ یہ ادبی اجتماع اور روشن خیال لوگوں کا مرکز تھے۔

سنہ 1674 میں لندن کی خواتین نے کافی خانوں کی مقبولیت کے خلاف آواز اٹھائی کہ یہ کافی خانے مردوں کو لمبے وقت کے لیے گھر سے باہر رکھتے ہیں۔ سنہ 1675 میں کرسمس سے دو دن پہلے شاہ چارلس نے انگلینڈ میں کافی کے استعمال پر پابندی لگا دی لیکن دو ہفتے کی قلیل مدت میں اسے اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

کافی کا یہ چھوٹا سا بیج دنیا کے نشیب و فراز سے گزر کر آگے بڑھتا گیا اور آج اسے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہے۔ جاپان جسے چائے کی تہذیب کا مرکز کہا جاتا ہے وہاں کے لوگ اب کافی کے دلدادہ ہیں۔

اس کی مقبولیت کی دوسری وجوہات بھی ہیں۔ کافی کی ایک پیالی آپ کو 11 فی صد وٹامن بی2، چھ فی صد وٹامن بی5، تین فیصد ميگنیز اور دو فی صد میگنیشیم دیتی ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بدن میں چربی کم کرنے میں مددگار ہے اور جگر کے لیے فائدہ مند۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دہلی کے کافی ہاؤس کا ایک منظر

آج ہندوستان میں کافی کی 16 قسمیں ہے اور جنوبی ہند کے حصوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ جدید طرز کے کافی خانے ہر جگہ موجود ہیں اور روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہیں۔ 'چلو کافی پر ملتے ہیں۔' یا پھر 'ایک کافی ہو جائے' آج زندگی کا معمول ہے۔ تو پھر ہم بھی کافی پر ملتے ہیں۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

اسی بارے میں