بنگلہ دیشی روہنجیا برمی رشتہ داروں کے لیے پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرحد کے قریب رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ برما کے فوجی ہیلی کاپٹروں کو نگرانی کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

'فوجی روہنجیا برادری کے گھروں میں آئے۔ اگر انھیں شک ہو کہ کوئی روہنجیا حامی تنظیم سے منسلک ہے تو اس کا مکان نذرِ آتش کرنے میں انھیں کوئی رکاوٹ نہیں۔ فوجی کسی کو گھروں سے باہر بھی نہیں نکلنے دیتے اور اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرتا تو وہ اسے گولی مار دیتے ہیں۔'

بنگلہ دیش میں مقیم روہنجیا میانمار کی ریاست رخائن کے حالات کچھ یوں ہی بتاتے ہیں۔

حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب میانمار میں پولیس کی سرحدی چوکیوں پر حملوں میں نو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

ان حملوں کا ذمہ دار روہنجیا مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا اور ان حملوں کے بعد سے میانمار میں کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔

سرحد کے قریب رہنے والے بنگلہ دیشی ہارون سکھدر کہتے ہیں کہ میانمار کے حکام کی اس کارروائی کا سرحد پر اثر پڑا ہے۔

وہ کہتے ہیں 'ہم برما کے فوجی ہیلی کاپٹروں کو نگرانی کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ بنگلہ دیشی مچھیرے دریائے ناف میں مچھلی پکڑنے نہیں جا سکتے۔ برما میں کشیدگی کا مچھیروں پر بہت اثر پڑتا ہے۔'

بنگلہ دیش میں مقیم بہت سے روہنجیا موبائل فون کے ذریعے میانمار میں رہنے والے اپنے رشتے داروں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ کچھ بنگلہ دیشی موبائل نیٹ ورک میانمار کی حدود کے اندر چند کلومیٹر تک کام کرتے ہیں۔

میانمار میں رہنے والے اپنے رشتے داروں کے حوالے سے بنگلہ دیشی روہنجیا کہتے ہیں کہ فوجی حکام روہنجیا مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ NYUNT WIN
Image caption میانمار میں رہنے والے اپنے رشتے داروں کے حوالے سے بنگلے دیشی روہنگیا کہتے ہیں کہ فوجی حکام روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں

عثمان گانی پانچ سال قبل میانمار سے دریائے ناف پار کر کے بنگلہ دیش آئے تھے۔ ان کے بھائی ابھی بھی رخائن ریاست میں رہتے ہیں۔

عثمان کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی اب بنگلہ دیشی سرحد کے قریب جنگل میں چھپے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ 'فوجی روہنجیا مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ فوجیوں نے کئی مکان جلا دیے ہیں۔ میرے گاؤں میں 100 کے قریب مکان تھے جن میں سے تقریباً 50 جلا دیے گئے ہیں۔‘

ایک اور روہنجیا محمد حسن کہتے ہیں کہ ان کے بھائی اور والدین میانمار میں رہتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کی موجودگی میں انھوں نے اپنے بھائی کو فون کیا۔

حسن کہتے ہیں کہ ’میرے گھر والے میانمار میں ایک ایسے گاؤں میں رہتے ہیں جہاں روہنجیا مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ وہاں پر لوگوں کو بہت سی مشکلات ہیں کیونکہ فوجیوں نے بلاامتیاز لوگوں کو گولیاں ماری ہیں۔ میرا بھانجا ابھی تک لاپتہ ہے۔‘

ماضی میں میانمار میں روہنجیا مسلمانوں کے حالات کشیدہ ہونے کی صورت میں اکثر ان کی ایک بڑی تعداد بنگلہ دیش چلی جاتی تھی۔ تاہم اس بار ایسا نہیں ہو رہا کیونکہ بنگلہ دیش نے اپنی سرحد کو سیل کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NYUNT WIN
Image caption ماضی میں میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے حالات کشیدہ ہونے کی صورت میں اکثر ان کی ایک بڑی تعداد بنگلہ دیش چلی جاتی تھی۔ تاہم اس بار ایسا نہیں ہو رہا۔ بنگلہ دیش نے اپنی سرحد کو سیل کر دیا ہے

بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ 'حالیہ حملوں میں ہونے والے معصوم جانوں کے نقصان پر انھیں تشویش ہے اور ہم ان کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے تک لانا چاہتے ہیں۔‘

حالیہ حملوں کے حوالے سے رخائن کی ریاستی حکومت کے اہم اہلکار ٹن مانگ سؤ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں اس حملے کی ذمہ دار 1980 اور 1990 کی دہائی میں سرگرم تنظیم روہنجیا سولیڈیرٹی آرگنائزیشن (آر ایس او) ہے۔

میانمار کی حکومت کی جانب سے ماضی میں متعدد حملوں کا ذمہ دار آر ایس او کو ٹھہرایا گیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم کافی عرصے سے کام نہیں کر رہی۔

ادھر اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان ریاست رخائن میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے بنائے گئے ایک تجویزی کمیشن کی سربراہی کر رہے ہیں۔

میانمار میں بدھ مت قوم پرست ملک میں موجود تقریباً 10 لاکھ روہنجیاؤں کو بنگلہ دیشی درانداز تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ روہنجیا کئی نسلوں سے میانمار میں مقیم ہیں تاہم میانمار کی حکومت انھیں شہریت دینے سے انکار کرتی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں