نہرو یونیورسٹی سے غائب طالب علم ڈھونڈنے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ facebook Saima Asghar Ali / file photo
Image caption نجیب احمد گذ۔شتہ سنیچر سے لاپتہ ہیں

دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ غائب ہونے والے طالب علم نجیب احمد کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں پولیس نے کیس درج کر لیا ہے اور سی بی آئی سے بھی مدد کی اپیل کی گئی ہے.

نجیب احمد 14 اکتوبر کی رات ماہی ماڈوي ہاسٹل میں ہونے والی جھڑپ کے بعد سے غائب ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ونیت کھرے نے نجیب احمد کی والدہ فاطمہ نصیر سے بات کی.

فاطمہ نصیر کا کہنا تھا ’مجھے میرا بچہ چاہیے. میری حالت بہت خراب ہے میرا بچہ بہت نیک، بھولا، شریف اور سیدھا ہے اور اسے تعلیم کے علاوہ کسی بات سے کوئی مطلب نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پیر کو پولیس میں شکایت تو درج کرائی ہے لیکن پولیس نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ میرے بیٹے نے کھانا کھایا ہے یا نہیں یا اسے کہاں کہاں چوٹ لگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOhd Raghib
Image caption فاطمی نصیر کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی

انھوں نے کہا کہ ’میری اپنے بیٹے سے آخری بار بات ہفتہ کو ہوئی تھی، تقریباً صبح 11 بجے۔ واقعے کے بعد اس نے مجھے فون کرکے بتایا تو میں گھر سے یہاں کے لیے نکل پڑی۔‘

’اس نے ہسپتال سے مجھے فون کرکے بتایا تھا کہ اسے صفدرجنگ ہسپتال میں میڈیکل چیک اپ کے لیے لایا گیا ہے۔ وہ فون پر روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ مجھے آپ کے پاس آنا ہے۔‘

فاطمہ نصیر نے مزید بتایا ’جب میں اس کے کمرے میں پہنچی تو اس کا سامان ادھر ادھر پڑا تھا۔ ہم نے محنت اور مشکلات کے بعد نجیب کو جے این یو پڑھنے کے لیے بھیجا ہے۔ میرے شوہر دل کے مریض ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا پڑھائی میں اچھا تھا تب ہی وہ جے این یو پہنچ پایا اور ابھی تک ان کے خاندان میں کوئی اتنی بڑی یونیورسٹی میں نہیں پہنچا تھا۔

’ہمارا کوئی نہیں ہے، ہم بہت چھوٹی جگہ سے ہیں۔ میرا بیٹا یہاں پڑھنے لکھنے آیا تھا۔ اس نے جامعہ میں داخلہ منسوخ کراکر جے این یو میں داخلہ لیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرا بیٹا مجھے واپس کرا دیجیے، میں اسے جے این یو سے لے کر گھر چلی جاؤں گی۔‘