’کمائی انڈیا سے، حمایت پاکستان کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں چینی مصنوعات کے خلاف تحریک چل رپی ہے

مندروں میں مساجد میں، گرودواروں میں، عام ہندوستانیوں کے دلوں میں اور گھروں میں، چین ہر جگہ ہے۔ اور اس سے محبت اور نفرت کرنے والے بھی۔

نفرت کرنے والے چینی سامان کے بائیکاٹ کی مہم چلا رہے ہیں جو انڈیا کے بازاروں میں بھرا پڑا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چین نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب اوڑی کے بریگیڈ ہیڈکواٹر پر حملے کے بعد پاکستان کا ساتھ دیا ہے اس لیے اسے بھی سبق سکھایا جانا چاہیے۔

سبق سکھانے کا مطالبہ کرنے والوں میں پروین کھنڈیلوال بھی شامل ہیں جو دکانداروں کی ایک کل ہند تنظیم کےصدر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ مہم سوشل میڈیا سے شروع ہوئی تھی لیکن چونکہ معاملہ حب الوطنی سے جڑا ہوا تھا اس لیے طول پکڑ گئی۔۔۔چین سے ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن اس نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اس لیے لوگ اسے بھی سبق سکھانا چاہتے ہیں۔'

چین انڈیا کا سب سے بڑا کاروباری شراکت دار ہے لیکن برابر کا نہیں۔ گذشتہ مالی سال میں انڈیا نے چین سے 61 ارب ڈالر کا سامان درآمد کیا تھا جبکہ برآمد کیے جانے والے سامان کی مالیت صرف 9 ارب ڈالر تھی۔

اس عدم توازن پر حکومت کو بھی تشویش ہے اور چینی سامان کے بائیکاٹ کی مانگ اس کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے ایجنڈے سے بھی میل کھاتی ہے جو 'سودیشی' یا ملک کے اندر ہی تیار ہونے والے سامان کو فروغ دینے کے حق میں ہے۔

لیکن چین کے چاہنےوالوں کی بھی کمی نہیں۔ دہلی کا صدر بازار ملک میں تھوک کے سب سے بڑے بازاروں میں سے ایک ہے، یہاں ہر روز اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے اور بڑے بڑے شوروم چینی سامان سے بھرے پڑے ہیں۔

سنیل اہوجا ان میں سے ایک شو روم کے مالک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ'چینی سامان کا کوئی متبادل نہیں، خریدار کو کچھ نیا چاہیے، اچھا چاہیے اور سستا چاہیے، اور یہ سب خوبیاں چینی سامان میں موجود ہیں۔'

قریب ہی دیوراج باویجا کا شو روم ہے وہ گیس کے چولہے فروخت کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کاروبار میں نقصان ہوا ہے یا نہیں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کیونکہ دیوالی کی شاپنگ اب شروع ہونے والی ہے اور نئے سال تک سیزن اچھا رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ مہم تو سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی لیکن اس میں اب بی جے پی کے کچھ ریاستی رہنما بھی شامل ہوگئے ہیں۔ لیکن ان سے زیادہ اہم آواز یوگا کے ماہر بابا رام دیو کی ہے جو خود ایک بڑا صنعتی ادارہ چلاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'چین کماتا انڈیا سے ہے اور حمایت پاکستان کی کرتا ہے۔۔۔اس لیے چینی سامان کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔'

حکومت چین کے ساتھ کاروبار بڑھانا چاہتی ہے لیکن بائیکاٹ کی اپیل کے خلاف اس نے فی الحال کوئی واضح بیان نہیں دیا ہے۔

تجزیہ نگار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ چینی سامان کا بائیکاٹ ممکن نہیں کیونکہ ایک تو فی الحال اس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے اور معیار اور لاگت دونوں میں ہی چینی سامان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے۔

چینی سامان کے بائیکاٹ کی اپیل پہلے بھی کئی مرتبہ کی جا چکی ہیں لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوئیں۔ اس مرتبہ اس کی گونج زیادہ سنائی دے رہی لیکن اگر کاروبار پر اثر پڑتا بھی ہے تو فی الحال نقصان انڈین تاجروں کو ہی ہوگا کیونکہ وہ تہواروں کے لیے سامان پہلے ہی درآمد کر چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں