انڈیا میں عدالت نے ٹرین ضبط کرلی

انڈیا میں عدالتی حکام نے محکمہ ریلوے کی جانب سے ایک کسان کو اس کی زمین کے بدلے رقم ادا نہ کرنے پر ایک مسافر ٹرین کو ضبط کر لیا ہے۔

کرناٹکا کی ریاست میں واقع ہاری ہار اسٹیشن پر جب اس ٹرین کو قبضے میں لیا گیا تو اس وقت ٹرین پر سو سے زیادہ مسافر سوار تھے۔

تاہم ریلوے حکام کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ وہ کسان کو اس کی زمین کا معاوضہ جلد ادا کر دیں گے عدالتی حکام نے ٹرین کو چھوڑ دیا۔

ریلوے نے سنہ 2006 میں متاثرہ کسان سے زمین حاصل کی تھی تاہم ابھی تک کسان کو زمین کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے۔

شیو کمار نامی کسان نے 36 لاکھ روپے کے بدلے اپنی ایک ایکٹر زمین ریلوے کو بیچی تھی۔

تاہم ریلوے حکام کی جانب سے رقم ادا کرنے میں ناکامی کے بعد کسان نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

سنہ 2013 میں عدالت نے ریلویے حکام کو حکم دیا تھا کہ شیو کمار کو سود سمیت زمین کا معاوضہ ادا کیا جائے۔ لیکن ریلوے کی جانب سے تین سال تک اس حکم پر عمل درآمد میں ناکامی کے بعد عدالت نے ٹرین کو ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔

کسان کے وکیل ’کے جی ایس پٹیل‘ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ریلوے حکام نے وعدہ کیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر رقم ادا کر دی جائے گی جس کے بعد ٹرین کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔‘

ٹرین پر سفر کرنے والے ’سہی کاہی چاندرو‘ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’پہلے ہم سمجھے کہ شاید دنگا فساد کرنے والوں نے ٹرین روک لی ہے۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ٹرین کو عدالتی حکم کے تحت ضبط کیا گیا ہے۔ مجھے غصہ تو آیا لیکن اس پر ہنسی بھی آرہی تھی۔‘