چین میں استقبالیہ پر کام کرنے کے لیے دس ہزار درخواستیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین ڈیموکریٹک لیگ نامی سیاسی جماعت ملک کی متعدد اقلیتی جماعتوں میں سے ایک ہے جن کے پاس بہت محدود اختیارات ہیں

لوگوں کو چائے بنا کر دینا اور مہمانوں کا استقبال کرنا شاید ایک ہر کسی کی پسندیدہ نوکری نہ ہو لیکن چین میں استقبالیہ کی ایک اسامی کے لیے کم سے کم دس ہزار افراد نے درخواستیں دیں۔

چین کے سول سروس بھرتی کے عملے کے مطابق 'چین ڈیموکریٹک لیگ عوامی استقبالیہ عملے' کی ایک پوسٹ کے لیے ریکارڈ 9,837 افراد نے درخواستیں دیں۔

’اگر آئی فون خریدا تو نوکری ختم‘

چین ڈیموکریٹک لیگ نامی سیاسی جماعت ملک کی متعدد اقلیتی جماعتوں میں سے ایک ہے جن کے پاس بہت محدود اختیارات ہیں۔

چین میں بہت سے افراد اس جماعت کے لیے استقبالیے کی نوکری کی امید کیوں کر رہے ہیں؟

چین میں حکومت کی جانب سے جاری انسداد بدعنوانی مہم کی وجہ سے ہر سال متعدد افراد نوکریوں کے لیے درخواستیں دیتے ہیں۔

حکومتی اداروں میں نوکریاں دینے کے لیے حکام نے مزید سخت اقدامات کیے ہیں جن میں امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ ان کے پاس اعلی تعلیم کے ساتھ مخصوص مہارت بھی ہونی چاہیے۔

چین کی سول سروس کے ترجمان لی زونگ نے پیپلز ڈیلی کو بتایا کہ متعدد افراد کو ان نوکریوں میں اس لیے کشش نظر آتی ہے کیونکہ ان میں تعلیم، پروفیشنل اور تجربے کے وسیع مواقع ہوتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ڈیمو کریٹک لیگ کی نوکری کے لیے ہر کوئی جس کے پاس بیچلر ڈگری اور دو سال کا بنیادی تجربہ ہو درخواست دے سکتا ہے۔

دریں اثنا چین کے دور دراز علاقے انر منگولیا اور زین جیانگ میں 223 نئی نوکریوں کے لیے لوگوں نے زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ یہ نوکریاں بینک ریگولیٹری اور میٹرولوجیکل شعبے سے متعلق تھیں۔

چین کی سول سروس کے ترجمان لی زونگ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یہ نوکریاں دور دراز علاقوں میں ہونے کی وجہ سے پر نہیں ہو سکیں۔

ایک اندازے کے مطابق چین میں رواں برس تقریباً 14 لاکھ افراد نے سول سروس کے امتحان میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر ہر نوکری کے لیے اوسطً 49.5 افراد نے درخواستیں دیں۔

چین میں ہر سال اسی طرح کے اعداد و شمار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ گذشتہ سال چین میں یہ شرح 1: 46 تھی۔

سنہ 2013 میں چین کے قومی شماریات کے تحقیقاتی رکن کے عہدے کے لیے 9,400 سے زائد افراد نے درخواستیں دی تھیں۔

چین میں سرکاری بے ورز گاری کی شرح چار فیصد ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں