کشمیر: چھّروں سے متاثر ہونے والی نابینا لڑکی

Insha Mushtaq looks out of the window
Image caption انشا مشتاق پنے مکان کی کھڑی پر بیٹھی تھیں جب انھیں چھّرے لگے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی 14 سالہ لڑکی انشا مشتاق کی بینائی آنکھوں میں چھرّے لگنے سے متاثر ہوئی۔ مقامی فوٹو جرنلسٹ عابد بھٹ نے اُن کی کہانی بیان کی ہے۔

انشا نے کہا کہ ’ میں اپنے پر چھّرے مارنے والے سکیورٹی اہلکار سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ میرا قصور کیا ہے۔‘ وہ اپنے مکان کی کھڑی پر بیٹھی تھیں جب انھیں چھّرے لگے۔

گذشتہ تین ماہ سے وہ اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے ہسپتالوں کے چکر لگا رہی ہیں، ابھی تک کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن وہ پر اعتماد ہیں۔

انشا کہتی ہیں کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔ انھوں نے اپنی کتابیں مجھے دکھائیں جنھیں وہ اب پڑھ نہیں سکتی ہیں۔ پر نم آنکھوں سے انھوں نے بتایا کہ ’میں ان کتابوں کو صرف محسوس کر سکتی ہوں۔‘ انھوں نے مجھے اپنی سکول کا شناختی کارڈ بھی دکھایا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری کشیدگی کے باعث اب تک 89 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہزاروں زخمی ہیں۔ انڈیا نے کشمیر میں جاری شورش کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے جس کی پاکستان نے تردید کی ہے۔

کشمیر کے معاملے پر تنازع گذشتہ 60 سے زائد برسوں سے جاری ہے اور اب تک کشمیر کے تنازع پر انڈیا اور پاکستان میں دو جنگیں ہو چکی ہیں۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں افواج نے پہلی مرتبہ سنہ 2010 میں پیلٹ گن کو غیر مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ عوماً چھّرے والی بندوق پرندوں کے شکار کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس بندوق سے چھوٹے چھوٹے ایسے چھّرے فائر کیے جاتے ہیں جو لولہے کی گیند کے مشابہ ہوتے ہیں۔

چھّرے والی بندوق میں استعمال ہونے والی ایک گولی میں تقریبًا 500 چھّرے ہوتے ہیں۔ جب کارتوس چلتا ہے تو اس میں موجود چھّرے ہر جانب بکھر جاتے ہیں۔

یہ کارتوس گولی کے مقابلے میں کم مہلک ہوتے ہیں لیکن ان سے گہرے زخم آتے ہیں خاص کر آنکھیں متاثر ہوتی ہیں۔

انشا مشتاق کا خاندان اُن کے زخموں سے نمبردآزما ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُن کی ماں اپنی بیٹی کی بینائی جانے پر بہت رنجیدہ ہیں۔ انشا کا خاندان اُن کے چہرے پر زخموں کے داغ چھپانے میں اُن کی مدد کرتا ہے۔

وہ سکارف اور چشمے سے اپنے زخم چھپاتی ہیں۔

انشا کے والد نے کہا کہ ’اگر یہ مر جاتی تو شاید میں یہ غم برداشت کر لیتی لیکن اس کی نابینا آنکھیں مجھے ہر وقت مار دیتی ہیں۔‘

Image caption انشا مشتاق کی ماں اپنی بیٹی کے غم میں روتی ہیں۔

انشا کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی پُر امید رہنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘

انشا اپنی خیریت کے لیے پوچھنے آنے والے تمام افراد کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ اُس کے بعد وہ رشتے داروں کے ساتھ چہل قدمی کے لیے باہر چلی گئی لیکن اُن کے لیے یا کسی دوسرے کے لیے بھی یہ سفر بہت مشکل اور طویل ہے۔

Image caption انشا مشتاق دونوں آنکھوں سے نابینا ہیں۔