انڈیا میں مبینہ پولیس مقابلے پر حزب اختلاف کے سوالات

مفرور و مقتول قیدی تصویر کے کاپی رائٹ MP Police
Image caption ولیس نے ان کے نام، شیخ مجیب، ماجد، خالد، عقیل خلجی، ذاکر حسین، شیخ محبوب، محمد سالک اور امجد بتائے ہیں

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں بھوپال جیل سے مبینہ طور فرار ہونے واالے سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کے آٹھ کارکنوں کی پولیس مقابلے میں ہلاکت پر سوال اُٹھائے جا رہے ہیں۔

مقتول افراد کے وکیل نے اس مبینہ پولیس مقابلے کی تحقیقات سی بی آئی سے کروانے اور اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کی بات کہی ہے۔

انڈیا: جیل سے مفرور شدت پسند مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

مدھیہ پردیش: بھارتی جیل سے سات قیدی فرار

پولیس کا کہنا تھا کہ یہ آٹھوں شدت پسند ایک تصادم میں مارے گئے لیکن حزب اختلاف نے مدھیہ پردیش حکومت اور پولیس کے دعووں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں کانگریس کے صدر ارون یادو نے کہا ہے کہ آٹھوں لوگوں کا دیوالی کی رات فرار ہونا اور پھر بھوپال کے پاس ہی آٹھ نو گھنٹے تک چھپا رہنا مشتبہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھوپال کا سینٹرل جیل ملک کے سب سے محفوظ جیلوں میں سے ایک ہے

خیال رہے کہ بھوپال کی سینٹرل جیل ملک کے سب سے محفوظ جیلوں میں سے ایک ہے۔ پولیس کے مطابق پیر کی صبح دو سے ڈھائی بجے کے درمیان آٹھ قیدی بھاگ گئے اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم سیمی سے تھا۔

آٹھ گھنٹے بعد پیر 11 بجے خبر آئی کہ پولیس نے سبھی کو مار دیا ہے۔

پھر ٹی وی چینلز پر اس واقعہ کا مبینہ موبائل فوٹیج دکھایا گیا جس میں کچھ لوگ زمین پڑے دیکھے جا سکتے ہیں تاہم اس فوٹیج کی صداقت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

ویڈیو میں دیکھے جانے والے مناظر میں ایک سکیورٹی اہلکار بظاہر گولی چلاتا ہے۔

کانگریس رہنما ڈگ وجے سنگھ نے ٹویٹ کیا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کیا یہ لوگ 'سرکاری جیل سے بھاگے یا پھر کسی منصوبہ بندی کے تحت بھگائے گئے۔‘

جبکہ بی جے پی لیڈر آر کے سنگھ نے اسے 'غلط سوچ' سے تعبیر کیا ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ونیت کھرے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بارے میں میڈیا سے پولیس ہی بات کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اس واقعے کے بعد جیل کے کئی سینی ئر افسران کو معطل کیے جانے کا اعلان کر دیا ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ بہت سارے سیاستدان اس تصادم پر سوال اٹھا رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ ملک کی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ ابھی تو ان کا معاملہ عدالت میں تھا اور ان کا جرم ثابت نہیں ہوا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ جیل توڑ کر پہلے بھی بھاگے تھے۔

اسی بارے میں