چین: کوئلے کی کان میں پھنسے 33 کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین میں کانوں میں حقاظتی معیار بڑھانے کے باوجود کانوں میں حادثات ہونے کی ایک تاریخ ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنشانگو کوئلہ کان میں پھنسے 33 کان کن ہلاک ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز اس کان میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد 20 کان کن کی تلاش جاری تھی۔

پیر کی صبح جنوب مغربی علاقے میں نجی ملکیت کی کوئلے کی کان میں گیس لیک ہونے کی وجہ سے دھماکہ ہوا تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن ساری رات کان میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے کوشاں رہے تاہم اس حادثے میں صرف دو کان کن زندھ بچ پائے ہیں۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کان میں سے تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

چین میں کانوں میں ناقص حفاظتی معیار نہ ہونے کی وجہ سے آئے دن حادثات ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مقامی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے

مقامی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور علاقے میں دیگر کانوں کو عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔

اس سے پہلے رواں سال جنوری میں چار کان کنوں کو ایک کان میں 36 روز تک پھنسے رہنے کے بعد زندہ نکال لیا گیا تھا۔ اس کان کے مالک نے حادثے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔

چین دنیا میں کوئلہ پیدا کرنے اور اسے استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ جس کان میں حادثہ پیش آیا ہے وہاں سے سالانہ 60,000 ٹن کوئلہ نکالا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں