’پاکستانی سہیلی کے بغیر شادی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption پوروی نے سارہ کے ویزے کے بارے میں بھارتی وزارتِ خارجہ کو بھی لکھا ہے

انڈیا کی ایک لڑکی اپنی ایک پاکستانی سہیلی کے لیے بھارت کے سسٹم سے لڑ رہی ہے۔ اس لڑکی کا نام پوروی ٹھکر ہے جو پیشے سے صحافی ہیں اور نیویارک میں رہتی ہیں لیکن اگلے مہینے ممبئی میں شادی کرنے جا رہی ہیں۔

پوروی کی شادی میں شرکت کرنے والے مہمانوں کی فہرست میں ان کی سب سے عزیز پاکستانی سہیلی سارہ منیر کا نام بھی شامل ہے۔ تاہم انڈین سفارت خانے نے سارہ کو انڈیا کا ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اس بات سے ناراض ہو کر پوروی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ لکھی جس میں انھوں نے لکھا کہ 'میری زندگی کے سب سے اہم دن پر میری عزیز دوست میرے ساتھ نہیں ہو گی۔ اس بات کو سوچ کر میرا دل ہی ٹوٹ گیا۔‘

پوروی نے لکھا کہ ’سارہ انڈیا آ چکی ہیں اور میں پاکستان جا چکی ہوں، سارہ کے امی ابو میرے والدین جیسے ہیں ان کے بھائی بہن میرے بھائی بہن ہیں، ہم دونوں مندر، مسجد اور چرچ ایک ساتھ جایا کرتے تھے، اب ہم دونوں کی حکومتیں ہمیں یہ یاد دلانے کی کوشش کر ہی ہیں کہ ہم اس طرح کی چیزیں ایک ساتھ نہیں کر سکتے اور ہمیں ایک دوسرے کو صرف انڈین اور پاکستانی ہی سمجھنا چاہیے۔'

پوروی سارہ کے بارے میں انڈین وزارتِ خارجہ کو بھی لکھ چکی ہیں۔ اب انھوں ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ گیٹ ’سارہ ٹو انڈیا‘ کے نام سے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ ادھر سارہ نے بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے استعمال سے لوگوں سے دعا کی درخواست کی ہے۔

پاکستانی ٹوئٹر صارفین نے بھی دونوں سہیلیوں کی اس کہانی پر ہمدردی ظاہر کی ہے۔ پوروی کی پوسٹ کو 24 گھنٹوں میں 600 سے زیادہ مرتبہ شیئر کیا گیا ہے۔ بھارت میں اس پر ملاجلا ردِ عمل سامنے آیا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا۔

ستمبر کے مہینے میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اڑی حملے کے بعد بھارتی فوج نے مبینہ طور پر پاک فوجی اڈوں پر سرجیکل سٹرائکس کی تھیں، جس کے سے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں اور ویزے کے سلسلے میں بھی سختیاں برتی جا رہی ہیں۔