انڈیا: جی ایس ٹی کے تحت سیلز ٹیکس کی نئی شرح

شاپنگ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

جی ایس ٹی کے اطلاق کے بعد پورے ملک میں ساز و سامان اور سروسز پر صرف ایک مرتبہ ٹیکس نافذ کیا جائے گا اور اس کی شرح پورے ملک میں یکساں ہوگی

انڈیا نے نئے جی ایس ٹی یعنی جنرل سیلز ٹیکس نظام کے تحت محصولات کی شرح طے کر دی ہیں۔

جی ایس ٹی کو انڈیا میں آزادی کے بعد ٹیکس کے زمرے میں سب سے بڑی اصلاح بتایا جاتا ہے۔

نئی شرح کی مصنوعات کے مطابق پانچ فیصد سے 28 فیصد کے درمیان میں ہوں گی۔ اس کے تحت میعاری ٹیکس کی شرح 12 سے 18 کے درمیان میں ہوگی۔

ابھی انڈیا میں جو بھی اشیا اور ساز و سامان فروخت ہوتا ہے اس پر کئی ریاستیں اپنی مناسبت سے کئی طرح کا ٹیکس نافذ کرتی ہیں۔

لیکن اس قانون کے اطلاق کے بعد پورے ملک میں ساز و سامان اور سروسز پر صرف ایک مرتبہ ٹیکس نافذ کیا جائے گا اور اس کی شرح پورے ملک میں یکساں ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اس وقت اگر کوئی چیز ریاست ہریانہ سے فروخت ہونے کے لیے تمل ناڈو جاتی ہے تو راستے کی چھ مختلف ریاستیں اس پر اپنی نوعیت کا ٹیکس نافذ کرتی ہیں

ملک کی تاجر برادری یکساں ٹیکس نظام کے لیے کوششیں کرتی رہی تھیں اور اس کے نفاذ سے بہت سی عام چیزوں، خاص طور پر وہ چیزیں جو ایک ریاست سے دوسری ریاست نقل و حمل کے ذریعے لے جائی جاتی ہیں، پر ٹیکس کم لگنے لگا۔

انڈین کمپنی کے پی ایم جی سے وابستہ سنتوش دلوی کا کہنا ہے یہ ' بہت اہم پیش رفت ہے۔' حکومت نے ابھی یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ کون سی چیز کس درجے کے ٹیکس میں شامل کی جائے گی۔

انڈین وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے مطابق غریبوں کو ٹیکس سے بچانے کے لیے صارفین پر مشتمل قیمتوں کی فہرست میں شامل ہونے والی تقریباً نصف اشیا کو ٹیکس کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا۔

اس ٹیکس نظام کے نفاذ کا ایک مقصد کرپشن کا خاتمہ اور نوکری شاہی کی کم سے کم مداخلت بھی ہے۔ اس وقت اگر کوئی چیز ریاست ہریانہ سے فروخت ہونے کے لیے تمل ناڈو جاتی ہے تو راستے کی چھ مختلف ریاستیں اس پر اپنی نوعیت کا ٹیکس نافذ کرتی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے نفاذ سے ملک کی معیشت دو فیصد مزید تیزی سے ترقی کر سکتی ہے۔