انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خاتون کا کہنا ہے کہ پولیس کے 'ظالمانہ رویے' کی وجہ سے انھیں اپنی ایف آئی آر وآپس لینی پڑی

انڈیا کی ریاست کیرالہ میں ایک خاتون کا کہنا ہے کہ مبینہ گینگ ریپ کے بارے میں پولیس کو مطلع کرنے پر پولیس نے اُن نے غیر مہذب سوالات پوچھے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب پولیس کو انھوں نے بتایا کہ دو سال قبل انھیں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تو ایک اہلکار نے اُن سے پوچھا کہ کس آدمی نے انھیں ’سب سے زیادہ سرور دیا۔‘

خاتون کا کہنا ہے کہ پولیس کے ’ظالمانہ رویے‘ کی وجہ سے انھیں اپنی ایف آئی آر وآپس لینی پڑی۔

دوسری جانب پولیس نے اپنے پر عائد الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

مبینہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون دو بچوں کی ماں ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے ساتھ زیادتی کرنے والا ایک شخص اثرو روسوخ رکھنے والا مقامی سیاستدان ہے، جس نے اُنھیں ’اپنی شکایت واپس لینے‘ یا ’نتائج بھگتنے‘ کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ ’انھوں نے مجھے کہا کہ وہ میرے بچوں کو مار دیں گے اس لیے میں نے ایف آئی آر وآپس لے لی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پولیس سٹیشن پر انھیں جس تذلیل کا سامنا کرنا پڑا وہ ریپ سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کو ہراساں کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

2012 میں نئی دلی میں ایک بس میں طالبہ کے گینگ ریپ کے بعد ہلاکت کے بعد سے انڈیا میں جنسی تشدد کے بارے میں آگاہی بڑھی ہے۔

خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی حملوں کے بارے میں ملک بھر میں کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں