’بھوپال میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے نہتے تھے‘

سیمی تصویر کے کاپی رائٹ S NIAZI
Image caption بھوپال کے پاس چادند پور گاؤں کے نریش پال اور گیان سنگھ کا دعوی ہے کہ انہوں نے دیوالی کی اگلی صبح یعنی پیر کو ان افراد کو دیکھا تھا

بھوپال کے سینٹرل جیل سے مبینہ طور پر فرار ہونے والے سٹوڈنٹ اسلامک مومنٹ آف انڈيا یعنی سیمی کے مشتبہہ کارکنوں کو سب سے پہلے دیکھنے کا دعوی کرنے والے عینی شاہدین نے بی بی سی کے نامہ نگار ونیت کھرے سے بات چیت کی اور بتایا کہ انہوں نے اس دن کیا دیکھا تھا۔

بھوپال کے پاس چاند پور گاؤں کے نریش پال اور گیان سنگھ کا دعوی ہے کہ انہوں نے دیوالی کی اگلی صبح یعنی پیر کو ان افراد کو دیکھا تھا۔

بھوپال سینٹرل جیل اس جگہ سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

پولیس نے دعوی کیا تھا کہ یہ کارکن جیل کی دیوار کو پھلانگ کر فرار ہوئے تھے اور پاس ہی واقع اینٹوں کھیڑی گاؤں میں پولیس نے انھیں قتل کرنے کا دعوی کیا ہے۔

نریش پال کاشتکار ہیں۔ انہوں نے بتایا: 'پیر کی صبح دریا کے پاس کچھ لوگ جاتے ہوئے نظر آئے۔ مجھے لگا یہ لوگ مچھلی پکڑنے آئے ہیں۔ میں نے کافی دور سے ان کو دیکھا تھا۔ کل پانچ چھ لوگ تھے۔ اس کے بعد میں جب گھر گیا تو وہاں میں نے ٹی وی پر نیوز میں دیکھا اور مجھے شک ہوا تو میں نے 100 نمبر ڈائل کیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ S NIAZI
Image caption بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ نہتے تھے اور پولیس پر الزام ہے کہ اس نے آٹھوں لوگوں کو فرضی تصادم میں ہلاک کیا ہے

بتایا جا رہا ہے کہ اس گاؤں کو چاروں طرف سے پولیس والوں نے گھیر رکھا تھا۔

پولیس کو فون کرنے والے گاؤں کے ایک اور شخص گیان سنگھ نے بتایا: 'میری جب نریش پال سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ صبح یہاں دریا کے کنارے چھ سات لوگ نکلے ہیں۔ بعد میں میں نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ پر دیکھا کہ جیل سے سیمی کے آٹھ لوگ فرار ہیں۔ میں نے سوچا کہ ہو سکتا یہی لوگ ہوں۔ اس کے بعد گاؤں کے کچھ اور لوگوں نے بھی ان کو دیکھنے کی بات کہی۔ تب میں نے فوری طور پر پولیس کو فون کر کے بتایا۔ پولیس کو یہاں کا راستہ بتایا اور یہ بھی بتایا کہ یہ مقام کتنی دور ہے۔

کھیت میں ہی کام کرنے والے ایک مزدور امرت نے کہا: 'میں صبح آٹھ بجے کھیت میں کام کر رہا تھا۔ وہ آٹھ لوگ تھے۔ انھوں نے صرف جانگیے اور ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں. ان کے ہاتھ میں کپڑوں کی گٹھری بھی تھی۔'

جب بی بی سی نے پوچھا کہ کیا ان مشتبہ لوگوں کے پاس کسی طرح کے ہتھیار تھے تو اس کے جواب میں امرت نے کہا: 'ہم نے ان لوگوں کے پاس کسی طرح کے ہتھیار یا ڈنڈے وغیرہ نہیں دیکھے۔'

جہاں پر یہ مبینہ طور پر انکاؤنٹر ہوا تھا اس گاؤں کے مکھیا موہن سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: 'میں نے ان لوگوں کو کافی قریب سے دیکھا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا بھی کہ آپ لوگ کون ہیں۔ ان کے ہاتھ خالی تھے۔'

اس واقعے کے بعد سے یہاں ماحول سہما ہوا ہے۔

اس درمیان مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے ان آٹھ افراد کے جیل سے فرار ہونے کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں