سوال کرنا مشکل ہو گیا ہے

بھوپال مسلمان تصویر کے کاپی رائٹ S NIAZI
Image caption بھوپال میں پولیس کے ہاتھوں 'انکاؤنٹر' میں مارے جانے والے آٹھ مسلمان

انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں رواں ہفتے کے اوائل میں جس تیزی سے بھوپال جیل کے آٹھ زیر سماعت قیدی جیل کی اونچی دیواریں پھاند کر فرار ہوئے اتنی ہی تیزی سے ریاست کی پولیس نے انھیں چند گھنٹے کے اندر شہر کے نواح میں ایک 'انکاؤنٹر' میں ہلاک کر دیا۔

اس سے بھی تیزی سے ریاست کے وزیر اعلی نے ان قیدیوں کو ہلاک کرنے والے پولیس اہلکاروں کو ایک تقریب میں انعام و اکرام سے بھی نواز دیا۔

یہ قیدی برسوں سے سماعت کے بغیر قید میں تھے ان پر ایک ممنوع تنظیم کا رکن ہونے، فرقہ وارانہ ٹکراؤ اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

این ڈی ٹی وی کی نشریات 24 گھنٹے کے لیے بند

حکومت اور انڈین میڈیا نے کسی ثبوت اور جرم کے ثابت ہوئے بغیر ان آٹھ قیدیوں کو دہشت گرد قرار دیا۔ حکومت انھیں ہلاک کر دینے کو جائز ٹھہرا رہی ہے۔

جائے وقوع سے سامنے آنے والی بعض ویڈیوز اور وائرلیس پر ریکارڈ کی گئی پولیس کی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قیدی بظاہر غیر مسلح تھے اور انھیں کسی مزاحمت کے بغیر مارا گیا۔ وہ کس طرح فرار ہوئے اور پولیس نے کس طرح اتنی پھرتی کے ساتھ انھیں محاصرے میں لے لیا؟ اس بارے میں خود پولیس کے بیانات میں تضادات ہیں۔

اس پراسرار 'انکاؤنٹر' کی حقیقت کیا ہے یہ شاید کبھی سامنے نہ آ سکے کیونکہ اس کی تفتیش بھی وہی پولیس کررہی ہے جو اس انکاؤنٹر میں ملوث ہے۔ قومی حقوق انسانی کا ادارہ ایک سرکاری محکمہ ہے اور وہ کوئی ایسے سوال نہیں کرتا جس سے خود حکومت کے لیےمسا ئل پیدا ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ S Niazi
Image caption مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی نے پولیس کو انعام و اکرام سے نوازا

کسی ایسے شخص جس پر دہشت گردی کے الزام لگائے گئے ہوں، اس کے انکاؤنٹر، پولیس کی تحویل اور جیل کے اندر ہونے والی ہلاکت کے بارے میں سوال کرنا اب بہت مشکل ہو گیا ہے۔ میڈیا میں ایسے لوگوں کو جگہ نہیں ملتی جو حکومت کے موقف سے الگ رائے رکھتے ہوں۔

ملک کے تفتیشی ادارے، پولیس، سی بی آئی، خفیہ تنظیمیں یہ سبھی ادارے پیشہ وارانہ کارکردگی کی بجائے حکمراں جماعت کے تابع ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ گجرات میں کئی فرضی انکاؤنٹرز کے مقدمات میں درجنوں پولیس افسر جیل میں تھے۔ حکومت بدلنے`کےساتھ یہ سارے افسران نہ صرف مقدمات سے بری ہو چکے ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر ترقی پا کر اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

دہلی پولیس مرکزی حکومت کے اشارے پر کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی جماعت کے ایک درجن سے زیادہ ارکان اسمبلی کو طرح طرح کے معاملات میں گرفتار کر چکی ہے۔ ہر دوسرے روز ‏عام آدمی پارٹی کا کوئی نہ کوئی ایم ایل اے کسی نہ کسی کیس کا شکار بنتا ہے۔

یہاں دہلی میں یہ خبریں گرم ہیں کہ پنجاب میں انتخابی مہم شروع ہونے کے بعد اروند کیجریوال کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ وہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر انتخاب لڑنے والے ہیں۔ مرکزی حکومت نے دہلی میں کیجریوال کی حکومت کو کام کرنے سے روکنے کے لیے اسے ہر طریقے سے مفلوج کر رکھا ہے۔

انڈیا کی عدلیہ بھی کافی دباؤ میں ہے۔ ایک طرف کروڑوں مقد مے التوا میں پڑے ہیں تو دوسری جانب ملک کی سپریم کورٹ اور ریاستی ہائی کورٹس میں ججوں کی نصف سے زیادہ نشستیں خالی پڑی ہیں۔ سپریم کورٹ نے خالی جگہوں کے لیے ججوں کے نام کی فہرست حکومت کو تقریبآ ایک برس پہلے بھیجی تھی لیکن حکومت نے ابھی تک اس کی منظوری نہیں دی ہے۔ ملک کے چیف جسٹس کئی تقریبات میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہو یے رو پڑتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پٹھان کوٹ حملے کی کوریج کے لیے این ڈی ٹی وی پر ایک روز کی پابندی کی گئی

انڈیا شخصی حکومت کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ مختلف اداروں کے ساتھ ساتھ اب میڈیا پر بھی قدغن لگنا شروع ہو گیا ہے۔ بیشتر ٹی وی چینلز پہلے ہی حکومت کے گن گانے لگے تھے۔ جو غیر جانبدار تھے اب ان پر بھی دباؤ پڑنا شروع ہو گیا ہے۔ حکومت پر تنقید اور سوال کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اپوزیشن کمزور اور منتشر ہے۔ مستقبل قریب میں مودی حکومت کو کسی طرح کے سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں ہے۔ وزیر اعظم مودی خود کو ایک طاقتور حکمراں کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کی طاقت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں