سموگ سے دہلی میں 1700 سے زیادہ سرکاری سکول بند

دہلی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہلی کی ہوا میں آلودگی کے سبب لوگوں کا برا حال ہے اور سرکاری سکول بند کر دیے گئے ہیں

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں آلودگی کی سطح میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ ریاستی حکومت نے ایم سی ڈی سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فضا میں کثافت اور سموگ کے سبب سنیچر کو دہلی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام چلنے والے 1700 سے زیادہ سکول بند رہے۔

دریں اثنا دہلی کے جنتر منتر پر اتوار کو سکول کے طلبہ و طالبات اور ان کے والدین نے ماسک لگا کر عوام میں آلودگی کے متعلق بیداری پیدا کرنے اور آلودگی کی سطح میں اضافے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔

جبکہ دہلی میں ہونے والے گھریلو کرکٹ ٹورنامنٹ رنجی ٹرافی کے دو میچ کو منسوخ کر دیا گیا۔

اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میں بنگال اور گجرات کے درمیان اور کرنال سنگھ سٹیڈیم میں تریپورہ اور حیدرآباد کے درمیان ہونے والے ميچوں میں پہلے دن کے کھیل کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

کھلاڑیوں کی شکایت ہے کہ آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Mirza
Image caption یہ تصویر دیوالی کی صبح دہلی کے ایک صاف ستھرے علاقے میں لی گئی تھی

دہلی میں آلودگی کی خوفناک سطح پر مرکزی وزیر ماحولیات انیل دوے نے کہا: 'دہلی جیسے بڑے شہر میں ماحولیات کےحالات 364 دن سے خراب ہیں لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر گذشتہ 10-12 دنوں میں حالات مزید بدتر ہو گئے ہیں۔ اب صورت حال اتنی بدتر ہے کہ اس تر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرروت ہے۔'

انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست حکومتوں کو پہلے ہی ایڈوائزری دے دی گئی تھی۔ مسٹر دوے نے کہا کہ اب اس مسئلے پر سنجیدہ اقدام کی ضرورت ہے کیونکہ پٹرول، ڈیزل، لکڑی، خشک پتے اور کوئلہ جلانے سے جو آلودگی پیدا ہو رہی ہے، یہ سب سے اہم ہیں۔

اس سوال پر کہ دیوالی کے تہوار سے پہلے ہی اس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ آلودگی کی سطح میں بہت اضافہ ہونے والا ہے تو کیا حکومت دیر سے حرکت میں آئی ہے؟

وزیر ماحولیات انیل دوے نے کہا ’میرے خیال سے کسی ایک چیز کو سبب قرار دینا کہ پاس کی ریاستوں میں کوڑے جلانے کی وجہ سے یا دیوالی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے تو یہ ٹھیک نہیں ہو گا۔ سچ تو یہ ہے کہ 364 دن حالت خراب رہتی ہے۔‘

’اس کے اسباب میں آٹوموبائل، کاربن مینجمنٹ، کھیتوں کےکوڑے کرکٹ کو نذر آتش کرنے کے سے مسلسل نکلنے والے دھوئیں، جھاڑو لگانے کے بعد کوڑے میں آگ لگا دینا، جنریٹر کو رات دن چلایا جانا اور پرانی ڈیزل کاریں جنھیں سپریم کورٹ نے بند کرنے کا حکم دیا تھا سب شامل ہیں۔‘

Image caption دہلی کے جنتر منتر پر دہلی کے سکولی طلبہ اور ان کے والدین نے ماسک لگا کر عوام میں آلودگی کے متعلق بیداری پیدا کرنے اور اور آلودگی کی سطح میں اضافے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آلودگی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق ایک دن جفت اور دوسرے طاق نمبروں والی گاڑیوں کے انتظام سے دہلی کے سموگ میں کمی نہیں آئے گی کیونکہ پڑوسی ریاست ہریانہ اور پنجاب سے بڑے پیمانے میں کھیتوں میں جلائے جانے والے کوڑے کے ذرات بڑے پیمانے پر دہلی کی آب و ہوا میں داخل ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب دوے نے کہا کہ ایڈوائزری جاری کرنے کے بعد بھی اگر اس پر عمل در آمد نہیں ہوتا ہے تو پھر سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔

مرکزی وزیر اور دہلی کے وزیر اعلی نے دہلی کی اس خوفناک صورت حال سے نمٹنے کے لیے الگ الگ میٹنگز طلب کی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں