کشمیر ڈائری: ریاستی سرکار دہلی سے وفاداری میں اندھی

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AARABU AHMAD SULTAN
Image caption اس ہفتے میں ایک دفعہ پھر بچوں پہ چھّروں کا وحشیانہ استعمال ہوا

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً چار ماہ سےجاری احتجاج کی لہر، تشدد اور کرفیو کا کشمیریوں پر کیا اثر پڑا ہے؟ بی بی سی اردو نے سرینگر کی رہائشی ایک خاتون سے رابطہ کیا جن کے تجربات و تاثرات کی نویں کڑی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ جزوی طور پر ختم ہوا ہے۔ لینڈ لائن اور موبائل فون کی سہولت تو بحال کر دی گئی ہے لیکن موبائل انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے جس کی وجہ سے یہ تحریریں آپ تک بلاتعطل پہنچانے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

کشمیر میں ہر سال اکتوبر کے آخری ہفتے سرکار چھ ماہ کے لیے جموں منتقل ہو جاتی ہے۔ اس کو 'دربار موو' کہتے ہیں۔ یہ رسم مہاراجہ کے وقت سے چل رہی ہے۔

بات بس یہی ہے کہ ہماری سرکار سے کشمیری جاڑے کی سرد ہوا برداشت نہیں ہوتی ہے اس لیے چھ ماہ کے لیے جموں اور اس کی معتدل ہوا کا رخ کرتی ہے۔

٭ 'بےتکے بیانات میں شعور کے کچھ قطرے کون ملائے گا'

٭ مظفر پنڈت کی موت کب ہوئی؟

٭ کشمیریوں کے لیے کوئی جگہ محفوظ ہے؟

٭ کشمیر میں انڈین فوج کا 'جرنیلی بندوبست'

٭ 'بھیڑ بکریاں بچ گئیں مگر انسانی جانیں نہیں'

٭ 'ہمارے پتھر محبت کی نشانی'

٭ 'جہاں قاتل ہی منصف ہیں'

٭ کشمیر میں تعلیم بھی سیاست کی زد پر

مگر اس دفعہ تو سرکار سے کشمیر کی گرم ہوا برداشت نہیں ہوئی جو پچھلے سال چار ماہ سے یہاں چل رہی ہے۔

سچائی تو یہ ہے کہ ریاستی سرکار جموں میں ہو یا کشمیر میں، احکامات تو دہلی سے جاری ہوتے ہیں۔ ریاستی سرکار کا کام بس ان احکامات پہ عمل کرنا ہے۔

حالیہ سرکار نے تو اس معاملے میں دہلی سے اپنی وفاداری کا بھرپور ثبوت دیا، اور دیتی جا رہی ہے، گولیوں اور چھّروں کے بےتحاشہ استعمال سے جس کی آج تک مثال نہیں۔

اس ہفتے میں ایک دفعہ پھر بچوں پہ چھّروں کا وحشیانہ استعمال ہوا۔ زخمیوں میں ایسی تین بچیاں بھی شامل ہیں جن کی آنکھوں میں چھّرے لگائے گئے۔ یہ واقعہ پلوامہ میں پیش آیا۔

ان میں سے ایک بچی 13 سالہ عفرح پانچویں جماعت کی طالبہ ہے۔ اس کی دونوں آنکھوں میں چھّرے لگے ہیں۔ آنکھوں کے علاوہ چہرے اور گردن پر بھی چھّرے لگے ہیں۔ اس پر چھّرے داغنے سے پہلے اس کے بال بھی نوچ لیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سچائی تو یہ ہے کہ ریاستی سرکار جموں میں ہو یا کشمیر میں، احکامات تو دہلی سے جاری ہوتے ہیں

عفرح کا چہرہ دیکھ کے شوپیاں کی 14 سالہ انشا یاد آتی ہے جس کی دونوں آنکھوں کی بینائی جولائی میں چھّروں کی نذر ہوگئی۔ وہ بھی عفرح کی طرح اپنے گھر میں تھی جب اسے چھّروں کا نشانہ بنایا گیا۔

انشا کے کئی آپریشن ہوئے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اسے سرکار نے اپنے خرچے پر دہلی کے سرکاری ہسپتال بھی بھیج دیا۔ وہاں کشمیر کی وزیر اعلیٰ اس سے ملنے بھی آئیں۔

اس ملاقات کی تصویریں بھی اخباروں میں شائع ہوئیں اور پھر جموں میں ایک تقریر کے دوران وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی ایک آنکھ انشا کو دینے کے لیے تیار ہیں اگر اس سے انشا کی بینائی واپس آئے گی۔

انشا کے زخموں کی ذمہ دار حکومت کے یہ الفاظ کس کے لیے ہیں اور سزا کا ذمہ دار کون ہے؟

اب عفرح پر حملے کے بعد وزیراعلیٰ اپنی دوسری آنکھ بھی عفرح کو دینے کے لیے تیار ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کے پاس تو دو ہی آنکھیں ہیں۔ باقی ان سینکڑوں بچوں اور بچیوں کا کیا ہو گا جن کی بینائی چھّرے لگنے سے چلی گئی؟

انشا اب گھر واپس آ گئی ہے اور اپنی اندھیری آنکھوں کے ساتھ ایک نئی زندگی جینے کی تیاری کر رہی ہے۔

ہم کشمیری زبان میں ایک فقرہ استعمال کرتے ہیں جو بینائی سے محروم لوگوں کے ضمن میں استعمال ہوتا ہے۔۔' وینجی گاش'۔

اس کا مطلب ہوتا ہے 'دل کی روشنی' اور یہ فقرہ بینائی سے محروم ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کسی کی مدد کے بغیر چل پھر سکیں۔

یہ فقرہ انسانوں کی اندورنی طاقت اور ارادوں کی مضبوطی کی خوبصورتی سے تعریف کرتا ہے۔

خدا کرے ہمارے ماحول میں، جہاں ریاستی سرکار دہلی سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اندھی ہو گئی، وہاں انشا اور عرفان کے دلوں کی روشنی اس لمبی تاریک رات کو منور کر دے جس سے ہم گزر رہے ہیں۔

اسی بارے میں