سابق سری لنکن کرکٹر مہیلا جے وردھنے کا کینسر ہسپتال کے لیے ایک لمبا سفر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بیس سال پہلے مہیلا جے وردھنے کے بھائی کینسر کی بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے

سری لنکن کرکٹ لیجنڈ مہیلا جے وردھنے نے ملک کے شمال سے جنوب تک 28 دن تک پیدل چل کے چھ سو ستر کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔ ان کا یہ لمبا سفر ایک ’چیریٹی واک‘ کے لیے جس میں تقریباً اسی ہزار لوگوں نے ان کا ساتھ دیا۔

اس منصوبے کو شروع کرنے کے پیچھے بڑی وجہ ان کے سولہ سالا بھائی کی موت تھی۔

جے وردھنے نے کہا کہ 'میرے بھائی کی موت کو بیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کی جان کینسر نے لی تھی۔ میں بہت عرصے سے کینسر کے علاج کی جدید سہولیات کو سری لنکا لانے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ مجھے اب جا کر یہ موقع ملا ہے۔ صرف کینسر نہیں۔ ہمارے ملک میں اور بھی بہت سے مسائل ہیں۔ ہم سب کو ایک ساتھ مل کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔'

اس چیریٹی واک کی مدد سے اب تک 35 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا چندہ جمع ہو چکا ہے، جو کہ ایک نئے کینسر ہسپتال کی تعمیر میں مدد دے گا۔

سری لنکن حکومت نے کہا ہے کہ وہ ہسپتال کی عمارت کی بنیاد رکھنے اور اس منصوبے میں تیزی لانے کے لیے مالی طور پر مدد کریں گے۔

سری لنکا میں ہیلتھ سروس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر پالیتھا ماہیپالا کہتے ہیں کہ 'اس منصوبے کا تخمینہ ایک کروڑ ڈالر ہے۔ امید ہے کہ چیریٹی واک سے پچاس لاکھ ڈالر تک کی رقم اکٹھی ہو گی جبکہ باقی پانچ لاکھ ڈالر وزارتِ صحت نے دینے کا وعدہ کیا ہے۔

پانچ سال قبل اسی طرع کی ایک واک کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں تیس ہزار لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ جس کے بعد ملک کے شمال میں واقع جنگ زدہ علاقے میں 120 بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال بنایا گیا۔ وہاں کے رہنے والے لوگوں کو اس طرح کے ہسپتال کی اشد ضرورت تھی۔

اس مرتبہ یہ واک صرف ایک ہسپتال بنانے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے بھی ہے۔

اسی بارے میں